Share this link via
Personality Websites!
دِی۔([1]) اب حضرت زید رحمۃُ اللہ علیہ کے ساتھ صِرْف 200 افراد باقی رہ گئے تھے۔
آخر وُہی 10 مُحَرَّم کا دِن تھا، یُوسُف بن عَمرو نے امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کے پَوتے حضرت زید بن علی رحمۃُ اللہ علیہ کو اسی بےدردی کے ساتھ شہید کر ڈالا۔([2]) جس بےدردی سے امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا۔
اس بدنصیب نے ایک اور ظُلْم جو کمایا، وہ یہ تھا کہ حضرت زید رحمۃُ اللہ علیہ کے ساتھیوں نے آپ کو کسی محفوظ جگہ پر دَفن کر دیا تھا مگر بدبخت یزیدیوں کو چین نہ آیا، یُوسُف بن عَمرو نے آپ کا مزارِ پاک ڈھونڈا، جِسْمِ پاک کو نکالا اَور کوفَہ کے چوراہے میں لٹکا دیا۔([3]) بعض روایات میں ہے: آپ کے جسمِ پاک سے کپڑے اُتار لیے گئے تھے مگر خُدا کی قدرت کہ آپ کا جسمِ پاک بےلباس نہ رہے، اس لیے مکڑی نے آپ کے پُورے بدن مبارَک پر جالا تَن کر اُسے ڈھانپ دیا۔([4]) کافِی عرصہ جِسْمِ پاک یہاں لٹکا رہا، پِھر یہاں سے اُتار کر نذرِ آتش کر دیا گیا۔([5])اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔
گھر لٹانا جان دینا، کوئی تم سے سیکھ جائے
جانِ عالَم ہو فدا! اے خاندانِ اَہْلِ بیت
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami