Share this link via
Personality Websites!
اَنْہَہُمْ عَنِ الْمَنْکِرِ
ترجمہ: خُدا کی قسم! میں اس بات سے حیا کرتا ہوں کہ اُمْت کو نیکی کی دعوت دئیے بغیر، بُرائی سے منع کیے بغیر وفات پا کر رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے سامنے پہنچوں۔([1])
چنانچہ آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے نیکی کی دعوت کا سلسلہ شروع فرمایا۔ آہ! کوفَہ والے جو پہلے امامِ حُسین رَضِیَ اللہ عنہ کے ساتھ بےوفائی کر چکے تھے، اب کی بار انہوں نے بڑے پکّے وعدے کیے، اب کی بار خط نہ لکھے، خُود چل کر حضرت زید بن علی رحمۃُ اللہ علیہ کی خِدْمت میں پہنچے، بیعت کی، بہت یقین دِلائے۔ مگر افسوس! جب آپ رحمۃُ اللہ علیہ کوفَہ تشریف لے آئے۔ عین وہ وقت جب آپ نے کلمۂ حق بلند کرنے کا اِرادہ فرمایا تھا، اس سے ایک ہی دِن پہلے انہوں نے بےوفائی کا بہانہ گھڑ لیا۔
حضرت زید کی صِدِّیق و عمر سے محبّت
ان بےوفاؤں نے حضرت زید بن عَلِی رحمۃُ اللہ علیہ سے کہا: آپ حضرت ابوبکر و عمر ( رَضِیَ اللہ عنہما) کے مُتَعَلِّق کیا عقیدہ رکھتے ہیں؟ فرمایا:
اَتَوَلَّاہُمَا وَ اَبْرَءُ مَمَّا یَبْرَءُہُمَا
ترجمہ: میں حضرت صِدِّیق و حضرت فاروق رَضِیَ اللہ عنہما سے محبّت رکھتا ہوں اور جو اُن سے بیزار ہو، میں اس سے بیزار ہوں۔
کوفَہ والوں نے جب آپ رحمۃُ اللہ علیہ کا جواب سُنا تَو بولے: پِھر ہم آپ کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ کہہ کر سب نے اپنے وعدے توڑ دئیے اور عین وقت پر بےوفائی کر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami