Share this link via
Personality Websites!
اب حدیث شریف سُنائی، فرمایا: میرے والِد محترم مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ مولیٰ حضرت علی رَضِیَ اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی کہ عنقریب ہماری اَوْلاد میں سے زَید نامی ایک شخص ہو گا، وہ بھی اپنے وقت کے یزید کے سامنے کلمۂ حق بلند کرے گا، پِھر بےدردی کے ساتھ شہید کر دیا جائے گا۔
فَلَا یَبْقیٰ فِی السَّمَآءِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ اِلَّا تَلَقّٰی رُوْحَہٗ لِیَرْفَعَہٗ اَہْلُ کُلِّ سَمَآءٍ اِلٰی سَمَآءٍ
پس جب حضرت زید رحمۃُ اللہ علیہ کو شہید کیا جائے گا تو آسمان کے سب مقرَّب فرشتے، سبھی انبیائے کرام علیہمُ السَّلام اُس کی رُوح کے استقبال کے لیے تشریف لائیں گے اور اُس کی رُوح آسمانوں کی طرف اُٹھا لی جائے گی۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! آپ غور فرمائیے! یہ حضرت زید بن علی رحمۃُ اللہ علیہ کس شان کے مالِک تھے...!! 122ہجری یعنی امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کی شہادت سے ٹھیک 62 سال بعد کا واقعہ ہے،([2]) حضرت زید بن علی رحمۃُ اللہ علیہ مدینۂ پاک میں رہتے تھے، آپ کو مَعْلُوم ہوا کہ وقت کا یزید یعنی ہشام بن عبد الملک پہلے والے یزید کی طرح دِین میں بگاڑ پیدا کرنے کی ناپاک کوششیں کر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا:
وَاللہ اِنِّی ْلَاَسْتَحِی مِنْ رَسُوْلِ اللہ اِذَا لَقِیْتُہٗ وَ لَمْ آمُرَ اُمَّتَہٗ بِالْمَعْرُوْفِ وَ لَمْ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami