Share this link via
Personality Websites!
اُس نے امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کو دیکھا تو اس کے دِل میں لالچ آ گیا، سوچا کہ سخی گھرانہ ہے، کیوں نہ کچھ پیسے کما لُوں، کہنے لگا:
یَا اِبْنَ رَسُوْلِ اللہ! ہٰذَا اِشْتَرٰی شَاتِی فَذَبَحَہَا وَ لَمْ یَدْفَع اِلَیَّ الثَّمَنَ
ترجمہ: یعنی اے شہزادۂ رسول...!! آپ کے اس غُلام نے مجھ سے بکری لے کر ذَبح تَو کردی ہے مگر مجھے بکری کی قیمت نہیں دِی۔
یہ سُن کر امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ جلال میں آ گئے، فورًا غُلام کو بُلایا، پوچھا: کیا اس کو قیمت نہیں دی؟ عرض کیا: میں نے تَو دِی ہے، میرے پاس گواہ بھی موجُود ہیں، غُلام نے فورًا گواہ حاضِر کر دئیے!
اب مُعَاملہ صاف ہو گیا تھا، وہ شخص جو بظاہِر پیسے بٹورنا چاہ رہا تھا، وہ پھنس گیا۔ اب اُس نے عرض کیا: عالی جاہ...!! میں نے دیکھا کہ شہزادۂ رسول ہیں، سخاوت ہی فرمائیں گے، اس لیے لالچ میں آ کر اِلْزام لگا بیٹھا۔ یہ سُن کر امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کو تَرس آیا اور اسے کچھ اضافی رقم دینے کا فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ کہنے لگا: زَیْد۔ پہلے چُونکہ اس کا جُھوٹ پکڑا جا چکا تھا، چنانچہ نام بتانے کے ساتھ ہی بولا:
مَا بِالْمَدِیْنَۃِ اَکْذَبُ مِنْ رَجُلٍ اِسْمُہٗ زَیْدٌ
ترجمہ: یعنی حُضُور! شہر میں سب سے بڑا جھوٹا زَیْد ہی ہے۔
امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ اس کی بات سُن کر مسکرا دئیے! پِھر فرمایا:
یَا بُنَیَّ لَا تُعَیِّرْہٗ بِاِسْمِہٖ
ترجمہ: بیٹا! لفظ زید استعمال کر کے اس کی بُرائی مت کرو!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami