Share this link via
Personality Websites!
نے انہیں دیکھا تو رَو دئیے! اور فرمایا:
اَلْمَظْلُوْمُ مِنْ اَہْلِ بَیْتِیْ سَمِىُّ هٰذَا
ترجمہ: میرے اَہْلِ بیت میں سے ایک مَظْلُوم ہو گا، جس کا نام بھی اِس (یعنی زید بن حارثہ رَضِیَ اللہ عنہ ) کے نام پر ہو گا۔
وَ الْمَقْتُوْلُ فِی اللہ وَ الْمَصْلُوْبُ مِنْ اُمَّتِی سَمِىُّ هٰذَا
ترجمہ: اسی نام کا وہ مظلوم اللہ پاک کا کلمہ بلند کرتے کرتے شہید ہو گا اور اُسے سُولِی دے دی جائے گی۔
پِھر آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللہ عنہ سے فرمایا:
اُدْنُ منِّي يا زَيْدُ، زَادَكَ اللهُ حُبًّا عِنْدِيْ فإنَّك سَمِيُّ الحَبِيْبِ مِنْ وَّلَدِيْ زَيْدٍ
اے زید بن حارثہ! میرے قریب آجاؤ! اللہ پاک میرے دِل میں تمہاری محبّت بڑھائے، بیشک تمہارا نام میری اَوْلاد میں سے میرے محبوب زَید کے نام پر ہے۔([1])
نامِ زَیْد کو بُرا نہ کہو...!!
بعض تاریخ کی کتابوں میں یہ روایت لکھی ہے: جب امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ مکے سے کوفَہ کی طرف جا رہے تھے، راستے میں ایک مقام پر پڑاؤ کیا، قریب ہی ایک گاؤں تھا، آپ رَضِیَ اللہ عنہ نے اپنے غُلام سے فرمایا: جاؤ! گاؤں سے جا کر بکری خرید لاؤ! غُلام جا کر بکری خرید لایا، واپس آ کر ذَبَح کی اور گوشت پکانے کی تیاری شروع ہو گئی۔
اتنے میں وہ شخص جس سے بکری خریدی گئی تھی، وہ بھی پیچھے پیچھے پہنچ گیا۔ جب
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami