Share this link via
Personality Websites!
اُس مشہور کَرْبَلا کے بعد اِکْ اور کربلا تھی؛ *وُہی عاشُوراء کا دِن *وہی اَہْلِ بیتِ پاک *وُہی کوفَہ، وہی اَہْلِ کوفہ کی بےوفائی *وہی یزیدی تختِ حکومت اور وہی اس کے ظُلْم و ستم... فرق تھا تَو صِرْف تاریخ کا اور اَفْراد کا... *پہلے کربلا میں قربانی دینے والے امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ تھے، دوسری کَرْبَلا میں آپ کے پَوتے حضرت زید بن علی رحمۃُ اللہ علیہ تھے *پہلے کوفہ کا گورنر اِبْنِ زیاد تھا، اس بار یُوسُف بن عَمرو تھا *پہلے تختِ حکومت پر یزید پلید بیٹھا تھا، اس بار ہشام بن عبد الملک بَراجمان تھا۔ یہ واقعہ کیا ہوا، ذرا اِس کی تفصیلات میں چلتے ہیں:
حضرت زَیْد بن عَلِی رحمۃُ اللہ علیہ کا مختصر تعارُف
حضرت زَیْد بن عَلِی، حضرت علی اَوْسَط یعنی امام زَینُ العابدین کے شہزادے اور امامِ عالی مقام، امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہم کے پَوتے ہیں۔([1]) بہت ہی باکمال عالِمِ دِین، مفسرِ قرآن اور مُحَدِّث تھے۔ کروڑوں حنفیوں کے امام، امامِ اعظم اَبُوحنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ آپ کے شاگِرد ہیں۔([2])
آپ اندازہ کیجیے! جن کے شاگرد ایسے باکمال ہیں، خُود حضرت زید رحمۃُ اللہ علیہ کس شان و عظمت کے مالِک ہوں گے۔
صحابئ رسول ہیں؛ حضرت زید بن حارِثہ رَضِیَ اللہ عنہ ۔ انہیں پیارے آقا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے اپنا مُنہ بولا بیٹا بنایا تھا، یہ واحِد صحابی ہیں، جن کا نامِ پاک قرآنِ کریم میں ذِکْر کیا گیا ہے۔([3]) حدیث شریف میں ہے: ایک دِن رسولِ اَکْرَم، نورِ مُجَسَّم صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami