Share this link via
Personality Websites!
طرف اِشارہ کر کے فرمایا:
وَاللهِ لَوْ كَانَتِ الْعُسْرُ جَآءَتْ تَدْخُلُ الْحَجَرَ لَجَآءَتِ الْيُسْرُ حَتّٰى تَخْرُجَهَا
خُدا کی قسم! اگر تنگی اور مشکل آ کر اس پتھر کے اندر داخِل ہو تو اس کے پیچھے پیچھے آسانی بھی داخِل ہو جائے گی تاکہ اس تنگی کو اس کے اندر سے نکال دے۔([1])
پتا چلا؛ ہر مشکل اپنے ساتھ آسانی لاتی ہے، لہٰذا آزمائش کے بعد آنے والی اس آسانی کو دیکھیں، اس پر غور کریں اور اُس آسانی کو اپنی زندگی میں اپنا لیں۔ بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کو سمجھا رہے ہوتے ہیں: بیٹا! یہ کام نہ کرنا۔ بیٹاپوچھتا ہے: کیوں نہ کروں؟ آپ بتاتے ہیں: بیٹا! آج سے 10 سال پہلے میرے ساتھ یُوں ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا تھا۔ یعنی آج سے 10 سال پہلے ہماری زندگی میں جو ایک مشکل آئی تھی، وہ ہمیں ایک تجربہ دے کر گئی، اس تجربے نے ہمیں زندگی میں مضبوط اور میچور بنا دیا۔
لہٰذا آزمائش کے بعد یہ جو مضبوطی اور میچورٹی(Maturity) آتی ہے نا، اسے اُس آزمائش کے اندر سے خُود اَخَذ کرنا ہوتا ہے۔ آپ نے سُنا ہو گا: آدمی گِر گِر کر بڑا ہوتا ہے۔ مطلب کیا ہے؟ آدمی کو ٹھوکر لگتی ہے، اس سے سیکھتا ہے، پِھر ٹھوکر لگتی ہے، پِھر سیکھتا ہے، یُوں سیکھ سیکھ کر بہت ماہِر تجربہ کار بن جاتا ہے۔ لہٰذا ہر آزمائش میں سے یُوں سبق نکالتے جائیے! آسانیاں دیکھتے جائیے! اور آزمائشوں کو اپنی ترقی اور کامیابی کا ذریعہ بناتے چلے جائیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! دُنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی بہتر ہو جائے گی۔ اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami