Share this link via
Personality Websites!
آزمائش کو کامیابی کا ذریعہ بنانے کے طریقے
(1):آزمائش کو سزا نہیں بلکہ تربیت سمجھیں۔ یعنی کوئی آزمائش آئی تو یہ نہ کہیں کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟ بلکہ یہ سوچیں کہ اس آزمائش کے ذریعے مجھے سیکھنے کو کیا مِل رہا ہے؟ *میری کون سی کمزوری ہے جو اس آزمائش کے ذریعے ختم کی جا رہی ہے؟ *میرے اندر کونسی چھپی ہوئی صلاحیت ہے جو اس آزمائش کے ذریعے عیاں کی جا رہی ہے؟ بہت مرتبہ ہمیں ہی پتا نہیں ہوتا کہ میں اتنی بڑی مشکل کو بھی حل کر سکتا ہوں مگر جب مشکل آتی ہے تو اسے حل کر گزرتے ہیں۔ یُوں ہماری چھپی ہوئی صلاحیت ہم پر واضِح ہو جاتی ہے۔ لہٰذا زندگی میں جب بھی کسی آزمائش سے گزریں تو خُود سے 3سُوال کریں: (۱):میں نے اس آزمائش سے کیا سیکھا؟ (۲):میری کونسی کمزوری یا صلاحیت مجھ پر واضِح ہوئی؟ (۳):اب میں نے خُود میں کیا تبدیلی لانی ہے؟
(2):آزمائش کو کامیابی کا ذریعہ بنانے کا دوسرا طریقہ مشکل وقت میں بھی عَمَل جاری رکھیں۔ ہمارے ہاں لوگ مشکل آنے پر کام چھوڑ دیتے ہیں، مثلاً؛ بیمار تھا، اس لیے نماز نہیں پڑھ پایا، سَر میں شدید دَرْد تھا، اس لیے آج درود شریف کا وظیفہ رہ گیا۔ یہ نہ کریں، رفتار کم کر لیں، مگر عمل کو بالکل چھوڑ نہ دیں، ورنہ آزمائش آپ کو فائدہ دینے کی بجائے نقصان پہنچا جائے گی، آگے بڑھانے کی بجائے، پیچھے دھکیل دے گی۔
(3):اللہ پاک کی حکمت پر اعتماد رکھیں۔ یعنی یہ پکّا یقین رکھیں کہ یہ آزمائش مجھے نئی آسانیاں دے کر جائے گی۔ ایک مرتبہ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم بقیعِ پاک میں تھے، وہاں کچھ پتھر پڑے تھے، آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے اس پتھر کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami