Share this link via
Personality Websites!
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے پارہ: 4، سورۂ نِسآء کی آیتِ کریمہ کا ایک حِصَّہ سننے کی سعادت حاصِل کی ہے، بہت آسان مفہوم والی مگر بہت گہری آیتِ کریمہ ہے۔ اس آیتِ کریمہ سے ہمیں زندگی گزارنے کے لیے کیا کیا اَسْباق سیکھنے کو ملتے ہیں، یہ جاننے سے پہلے ایک تاریخی واقعہ آپ کو سُنانا ہے۔
اِکْ اور کَرْبَلا تھی، اُس کَرْبَلا کے بعد
شاید بہت سارے اِسْلامی بھائیوں کے لیے یہ نئی مَعْلومات ہوں گی کہ کربلا کے بعد بھی ایک کربلا ہوئی تھی یعنی ایک تَو وہ کَرْبَلا ہے، جس میں *حضرت علی اکبر رحمۃُ اللہ علیہ شہید ہوئے *حضرت علی اَصْغر رحمۃُ اللہ علیہ کے گلے پر تِیر چلایا گیا اور *امامِ عالی مقام، امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ نے بےمثال و لازوال قربانی دے کر دِینِ اِسْلام کو نئی تازگی بخشی۔ لیکن اَہْلِ بیتِ پاک کی قربانیوں کا یہ سلسلہ یہیں تھم نہیں گیا تھا، اس کربلا کے بعد اِک اَور بھی کربلا ہوئی تھی۔ مُنِیر نیازی نے کہا تھا نا؛
اِک اَور دریا کا سامنا تھا مُنِیرؔ مجھ کو میں ایک دَریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا
وضاحت: دَرْیا یعنی غَم، مشقت، پریشانی، آزمائش۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ قربانیوں کی ایک داستان رقم کی ہی تھی، لگا تھا کہ اب مصائِب و آلام ختم ہو جائیں گے مگر جیسے ہی ان آزمائشوں سے نکلے تو آزمائشوں کا ایک اور سلسلہ سامنے کھڑا تھا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami