Share this link via
Personality Websites!
پڑی ہے۔ میں اس پر عرض یہ کروں گا کہ ہم ان آزمائشوں کو اپنی کامیابی کا ذریعہ بنائیں۔ دیکھیے! 3درجے ہوتے ہیں: (1):آزمائش آئی تو رونا دھونا اور بےصبری شروع کر دی (2):دوسرا درجہ: آزمائش آئی اور صبر اِخْتیار کیا اور ثواب کے حقدار بن گئے (3):تیسرا درجہ ہے کہ ہم آزمائش پر صبر بھی کریں اور اسے اپنی دُنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بھی بنائیں۔
ہمارے ہاں عموماً لوگ پہلے درجے پر چلتے ہیں؛ *آزمائش آئی تو رونا دھونا شُروع *ہائے مَر گیا *ہائے میرے ساتھ یہ ہو گیا *بَس جی غُربت ہے کہ جان ہی نہیں چھوڑتی *بَس جی کیا کہیں؛ بیماریوں نے گھیرا ہوا ہے، بیٹی بیمار تھی، وہ ٹھیک ہوئی تو اَمِّی جان بیمار ہو گئیں، وہ ٹھیک ہوئیں تو میں خُود بیمار ہو گیا۔ یُوں لوگ روتے دھوتے رہتے ہیں، یہ تَو خطرناک سٹیج(Stage) ہے، دُنیا ہی میں نہیں آخرت میں بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا:
فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ
ترجمہ: یعنی جو آزمائش پر راضِی ہو گیا، اس کے لیے اللہ پاک کی رضا ہے، جو راضی نہ ہوا، اس کے لیے اللہ پاک کی ناراضی ہے۔([1])
لہٰذا ہم نے پہلی سٹیج پر تَو رہنا ہی نہیں ہے، آزمائش آئی اس پر صبر کرنا ہے، اللہ پاک کی رِضا میں راضِی رہنا ہے۔ البتہ! میں مشورہ دُوں گا کہ آپ اس سے بھی اگلی سٹیج پر جائیں؛ آزمائش کو کامیابی کا ذریعہ بنائیں، کیسے بنائیں گے؟ چند نسخے عرض کرتا ہوں:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami