Share this link via
Personality Websites!
یہ کامیابیوں کے دروازے ہوتے ہیں۔
آسانی مشکلات کے ساتھ ہی ہوتی ہے
قرآن ِ کریم نے کیا فرمایا:
فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ(۵) اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ(۶) (پارہ:30، سورۂ الم نشرح:5و6)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے، بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔
ایک ہی بات کو 2 مرتبہ فرمایا گیا ہے، یہ دِلوں میں بات پختہ کرنے کے لیے ہے کہ آسانی تنگی سے گزر کر ہی ملے گی۔ ورنہ نہیں مِل سکے گی۔ اور عُلَمائے کرام نے ان 2آیات کا معنیٰ لکھا کہ اس دُنیا میں آنے والی ایک تنگی کے ساتھ 2آسانیاں ہوتی ہیں، مثلاً ہمیں بُخار آیا، یہ بُخار جب ہمارے جسم سے جُدا ہو گا نا تو ہمیں 2چیزیں دے کر جائے گا: (1):ہمارا جسم تَوَانا ہو جائے گا (2):ہمارے گُنَاہ جھڑ جائیں گے۔ تو ایک تنگی کے ساتھ 2آسانیاں ہوتی ہیں، ایک اس دُنیا کی آسانی، دوسری آخرت کی آسانی۔
غرض؛ ہماری زندگی میں آنے والی آزمائشیں ہمارے رستے کی رُکاوٹیں نہیں بلکہ اگلی منزل تک پہنچنے کا دروازہ ہوتی ہیں۔ شاعِرِ مشرق نے کہا تھا:
تندئ بادِ مُخَالِف سے نہ گھبرا اَے عُقاب یہ تَو چلتی ہے تجھے اُونچا اُڑانے کے لئے
پیارے اسلامی بھائیو! آزمائشیں ہماری زندگی میں آتی ہی آتی ہیں *جسمانی امراض سے لے کر بیرونی خطرات تک، بہت ساری آزمائشیں ہیں، یہ زِندگی آزمائشوں سے بھری
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami