Share this link via
Personality Websites!
ترمذی شریف میں حدیثِ پاک ہے، محبوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا:
اِنَّ عِظَمَ الجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ البَلَاءِ
ترجمہ: بیشک بڑے اِنْعام، بڑی آزمائشوں سے ہی ملتے ہیں۔
وَاِنَّ اللَّهَ اِذَا اَحَبَّ قَوْمًا اِبْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ
ترجمہ: بیشک اللہ پاک جب کسی قوم سے محبّت فرماتا ہے تو انہیں آزماتا ہے، بَس جو آزمائش پر راضِی رہا، اس کے لیے اللہ پاک کی رضا ہے، جو راضِی نہ رہا، اس کے لیے ناراضی ہے۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیثِ پاک کے الفاظ پر غور فرمائیے! میں نے پہلے عرض کیا نا کہ آزمائش دِیْوار نہیں بلکہ دَروازہ ہوتی ہے۔ اس حدیثِ پاک نے یہ بات بالکل کھول کر بتا دی، فرمایا:
اِنَّ عِظَمَ الجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ البَلَاءِ
ترجمہ: بیشک بڑا اِنْعام بڑی آزمائش ہی سے ملتا ہے۔
جزاء صِرْف آخرت میں ملنے والے اَجْر کو نہیں کہتے، دُنیا میں بھی اللہ پاک کی جو عنایات، انعامات نصیب ہوتی ہیں، وہ بھی جزاء ہی ہیں۔ پتا چلا؛ دُنیا اور آخرت میں جو بھی بڑے درجات اور انعامات ملتے ہیں، آزمائشوں سے گزر کر ہی ملتے ہیں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami