Share this link via
Personality Websites!
ترجمہ: بیشک اللہ پاک آزمائش کے ذریعے تمہاری جانچ فرماتا ہے حالانکہ وہ تمہیں خوب جانتا ہے۔
پِھر یہ جانچ ہوتی کیوں ہے؟ فرمایا:
كَمَا يُجَرِّبُ اَحَدُكُمْ ذَهَبَهٗ بِالنَّارِ
ترجمہ: جیسے تم اپنے سونے کی جانچ آگ کے ذریعے کرتے ہو۔([1])
آج کل بھی یہ انداز ہے، کبھی سُنَار کی دُکان پر جانے کا موقع ملے تو اس سے پُوچھئے گا، سونا کھرا ہے یا کھوٹا ہے، یہ چانچنے کے لیے یہ لوگ اسے آگ میں جلاتے ہیں، جب پگھل جاتا ہے تو اس کا کھرا پَن یا کھوٹ واضِح ہو جاتا ہے۔
خیر! اب جب انسان کی جانچ کی جا رہی ہوتی ہے تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا:
فَمِنْهُمْ مَنْ يَخْرُجُ كَالذَّهَبِ الْاِبْرِيْزِ فَذٰلِكَ الَّذِيْ نَجَاهٗ اللهُ مِنَ السَّيِّئَاتِ وَمِنْهُمْ مَّنْ يْخُرُجُ كَالذَّهَبِ الْاَسْوَدِ فَذٰلِكَ الَّذِيْ اِفْتَتَنَ
کوئی خالِص سونے کی طرح ہوتا ہے، جب اسے آزمائش کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے تو سنہرا چمکدار ہو کر نکلتا ہے، یہ وہ بندہ ہے جسے اللہ پاک نے (آزمائش کے ذریعے) گُنَاہوں سے پاک کر دیا۔ جبکہ کوئی سیاہ سونے کی طرح ہوتا ہے کہ (آزمائش کی بھٹی سے گزرنے کے بعد) کالا سیاہ ہو جاتا ہے۔ یہ وہ بندہ ہے جو آزمائش میں ناکام ہو گیا۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami