Share this link via
Personality Websites!
سُورۂ عَنْکَبُوْت میں تَو اس بات کو اَور بھی کھول کر بیان کیا گیا، اِرْشاد ہوا:
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲) (پارہ:20، سورۂ عَنْکَبُوْت:2)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ انہیں صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں ہم ’’ایمان لائے‘‘ اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟
یعنی لوگ کیا سمجھ بیٹھے ہیں کہ صِرْف لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ پڑھ لینے پر ہی چھوڑ دئیے جائیں گے؟ ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی...؟ نہیں! نہیں...!! آزمائش تَو ہو گی، خُوب ہو گی، *شدید تکلیفیں بھی آئیں گی *مشکلات سے بھی گزرنا ہو گا *اللہ پاک کی رضا کی خاطِر فجر میں بستر بھی چھوڑنا پڑے گا *نفسانی خواہشات بھی مارنی پڑیں گی *عبادات کی مشقت بھی اُٹھانی پڑے گی۔ تبھی تَو اِیْمان کا کمال ظاہِر ہو گا۔
یہ شہادت گہِ اُلْفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
وضاحت: یعنی مسلمان ہونا کوئی عام بات نہیں ہے، کلمہ پڑھنے کا مطلب ہے کہ آدمی نے محبّتِ اِلٰہی دِل میں اُتار لی، اب جن مشکلات کا بھی سامنا ہو، مجھے مَنْظُور ہے۔ اس اقرار کا نام مسلمان ہونا ہے۔
سونا آگ میں جل کر ہی کندن بنتا ہے
پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی حدیثِ پاک ہے، فرمایا:
اِنَّ اللهَ لَيُجَرِّبُ اَحَدَكُمْ بِالْبَلَاءِ وَهُوَ اَعْلَمُ بِهٖ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami