Share this link via
Personality Websites!
اس کے بعد یہ حَضراتِ عالی وقار 3دِن مزید اسی قید و بند میں مبتلا رہے، پِھر شہادت کا رُتبہ پاک کر اللہ پاک کے حُضُور حاضِر ہو گئے۔
پتا چلا؛ بہت سارے بلند درجات ہوتے ہیں، بہت ساری ترقیاں اور کامیابیاں ہوتی ہیں، جن تک ہم صِرْف و صِرْف آزمائشوں سے گزر کر ہی پہنچ سکتے ہیں، اس کے عِلاوہ پہنچ ہی نہیں سکتے۔
کیا سمجھتے ہو؟ جنّت میں چلے جاؤ گے؟
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْؕ-مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ(۲۱۴)
(پارہ:2، سورۂ بقرہ:214)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنّت میں داخِل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر پہلے لوگوں جیسی حالت نہ آئی، انہیں سختی اور شدت پہنچی اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہہ اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سُن لو! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔
ترجمانُ القرآن حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس آیتِ کریمہ میں اللہ پاک نے مسلمانوں کو قانُونِ قدرت بتایا ہے کہ یہ دُنیا آزمائشوں کا گھر ہے، یہاں تمہیں لازمی، لازمی آزمایا جائے گا، جیسے پہلے انبیا کرام علیہمُ السَّلام پر مشکلات آئیں تم پر بھی آئیں گی۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami