Share this link via
Personality Websites!
اَہْلِ بیت پر اتنی آزمائشیں کیوں...؟
حضرت امامِ حَسَن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہ کی اَوْلادِ پاک میں آگے چل کر ایک بزرگ ہوئے ہیں: حضرت عَلِی بن حَسَن رَضِیَ اللہ عنہما۔ یہ اور ان کے بھائی وغیرہ کچھ اَفراد وقت کے ظالم حکمران جعفر دَوانِیقی کے ہاں قید تھے۔
جعفر دَوانِیقی بدنصیب نے ان پاک لوگوں کو 60 دِن تک ایسی جگہ قید رکھا جہاں سُورج کی روشنی پہنچتی ہی نہیں تھی، کب دِن ہوا، کب رات ہو گئی، انہیں مَعْلُوْم ہی نہیں ہوتا تھا، نمازوں کے اَوْقات کا اندازہ لگانے میں بھی انہیں بہت مشکل پیش آتی تھی۔
اس قید و بند کی مشقت سے گھبرا کر ایک دِن حضرت عبد اللہ بن حَسَن رحمۃُ اللہ علیہ نے امامِ علی بن حَسَن رحمۃُ اللہ علیہ سے عرض کیا: اے عَلِی...!!
اَلَا تَریٰ مَا نَحْنُ فِیْہِ مِنَ الْبَلَاءِ
ترجمہ: کیا آپ دیکھتے نہیں ہم کس آزمائش میں جکڑے ہوئے ہیں۔
اَ لَا تَطْلُبُ اِلٰی رَبِّکَ اَنْ یَخْرُجَنَا مِنْ ہٰذَا
ترجمہ: آپ اللہ پاک سے دُعا کیوں نہیں کرتے کہ ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرمائے۔
حضرت علی بن حَسَن رحمۃُ اللہ علیہ کافِی دیر خاموش رہے، پِھر فرمایا:
اِنَّ لَنَا فِی الْجَنَّۃِ دَرَجَۃً لَمْ نَکُنْ لَنَبْلُغُہَا اِلَّا بِہٰذِہِ الْبَلِیَّۃِ
بیشک جنّت میں ہمارے لیے ایک خاص درجہ ہے، جس تک ہم ان آزمائشوں کے بغیر پہنچ ہی نہیں سکتے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami