Share this link via
Personality Websites!
یعنی ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی بات، کوئی واقعہ، کوئی چیز تمہیں بظاہِر اچھی نہ لگ رہی ہو *بیماری دیکھ کر تمہاری آہیں بلند ہونا شروع ہو جائیں *تنگی اور مشکلات دیکھ کر تم چیخ پُکار مچا دو *زندگی کے دُکھ، دَرْد، تکلیفیں، بُھوک، پیاس، اپنوں کی جدائی، محبّت کے دعویداروں کی بےوفائی تمہیں اندر باہَر سے ہِلا کر رکھ دے مگر
وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا(۱۹) (پارہ:4، سورۂنساء:19)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔
حقیقت میں تمہاری بھلائی، تمہاری بہتری، تمہاری ترقی، تمہاری کامیابی، درجات کی بلندی اسی میں ہوتی ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے ہاں عموماً آزمائشوں اور مشکلات کو رُکاوٹ سمجھا جاتا ہے، آج کے جدید دَور میں بھی اس کے لیے ہَرْڈَل (Hurdle یعنی رُکاوٹ) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ پُورا سچ نہیں ہے۔ آزمائشیں رُکاوٹ نہیں ہوتیں، یہ سیڑھی ہوتی ہیں۔ ہماری زندگی میں آنے والی کوئی بھی مشکل، پریشانی، مصیبت، مالِی مشکلات وغیرہ دِیوار نہیں ہیں کہ اب سامنے دِیوار آ گئی ہے تو مجھے راستہ بدلنا پڑے گا یا دِیوار پھلانگنی پڑے گی۔ بلکہ یہ آزمائشیں دَرْوازہ ہوتی ہیں، ہم جب ایک آزمائش سے گزرتے ہیں تو ہمارے لیے اگلا دَرْجہ کھل جاتا ہے، ہمیں زندگی کے سَفَر میں ایک درجہ ترقی مِل جاتی ہے۔ کسی نے کہا تھا:
ضرور کچھ تو بنائے گی زندگی مجھ کو قدم قدم پہ مِرا امتحان لیتی ہے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami