Share this link via
Personality Websites!
گے *ایک بھائی قافلوں میں سَفَر کرتا ہے، بَس کافی ہے، باقی کام کاج دیکھ لیں گے۔
آپ اَہْلِ بیتِ پاک کی شان دیکھیے! کوئی صدیاں نہیں گزریں، ابھی صِرْف 62 سال کا عرصہ گزرا ہے، حضرت زید بن علی رحمۃُ اللہ علیہ نے یہ نہیں سوچا کہ *میرے چچا علی اصغر *تایا جان حضرت علی اکبر *میرے دادا جان امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ اتنی بڑی قربانی دے تَو چکے ہیں، دِین کی راہ میں جو کچھ بن پڑتا تھا، کر تَو چکے ہیں، اب مجھے تاریخ دہرانے کی کیا ضرورت ہے؟ نہیں...!! نہیں! آپ کی یہ سوچ تھی کہ پہلے بھی ہم ہی نے قربانی دی تھی، دوبارہ ضرورت پیش آئی ہے تو اس بار پِھر ہم ہی قربانی دیں گے۔
چنانچہ آپ نے بھرپُور استقامت کے ساتھ قربانی پیش کی، نتیجہ کیا نکلا، مقام کیا مِلا...؟ امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کے بقول: جب آپ کی رُوحِ پاک جسمِ مقدَّس سے جُدا ہوئی تو آسمانوں کے مقرَّب فرشتے رُوحِ پاک کے استقبال کے لیے حاضِر ہو گئے۔
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! یہ شانِ اَہْلِ بیت ہے...!! اور یہ اُن کی قربانیاں ہیں۔ اَہْلِ بیتِ اطہار کی اِن پاکیزہ قربانیوں سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ بڑے رُتبے، بڑے آزمائشوں سے گزر کر ہی ملا کرتے ہیں۔
یہی وہ بات ہے، جو اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں اِرْشاد فرمائی، ہم نے ابتدا میں آیتِ کریمہ سُنی تھی، اللہ پاک نے فرمایا:
فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا (پارہ:4، سورۂ نساء:19)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami