Share this link via
Personality Websites!
اپنی طرف سے یہ بدنصیب ان کی بےحرمتی چاہتے تھے مگر مولانا حَسَن رضا خان صاحِب رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں نا:
سَر شہیدانِ محبّت کے ہیں نیزوں پر بلند
اور اُونچی کی خُدا نے قدر و شانِ اَہْلِ بیت([1])
خیر! یہ بدنصیب مقدَّس سَر لے کر مُلْکِ شام، یزیدی محل کی طرف روانہ ہوئے، اب انہوں نے کوفَہ سے شام پہنچنا تھا، اس راستے میں ان کے ساتھ کیا کیا ہوا، سنیے!
یہ یزیدی قافلہ تَکْرِیْت نامی قلعہ کے قریب پہنچا... یہ ذِہن میں رکھیے گا کہ یہ سارا علاقہ یزید کی حکمرانی میں آتا تھا... یزیدیوں نے تَکْرِیْت قلعے کے گورنر کی طرف خط لکھا، ایک باغی تھا، جس نے یزید کے خِلاف بغاوت کی، ہم اس کا سَر لے کر یزید کے پاس جا رہے ہیں، ہمیں آج کی رات قلعے کے اندر گزارنے دو۔ چونکہ لوگوں کو اَصْل واقعہ کی خبر نہیں تھی، چنانچہ یزیدی فوج کے استقبال کے لیے پرچم لہرا دئیے گئے، قلعے کے دروازے کھول دئیے گئے مگر جُونہی یہ بدنصیب قلعے کے قریب پہنچے، لوگوں کی نگاہ اَہْلِ بیتِ پاک کے مقدَّس سروں پر پڑی، ایک شخص نے پہچان کر پُکارا: لوگو...!! یہ کسی باغی کا نہیں بلکہ نواسۂ رسول امامِ عالی مقام، امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کا سَرِ پاک ہے۔ یہ سنتے ہی لوگوں نے یزیدی فوج پر لعنت ملامت شروع کی اور انہیں یہاں سے دُور چلے جانے پر مجبور کر دیا۔
اب یہ قافلہ یہاں سے ذلیل ہو کر لِیْنَا نامی مقام پر پہنچا، یہاں کے لوگوں نے جب شہیدانِ محبّت کے مقدَّس سَر دیکھے تو اُونچی آواز سے امامِ عالی مقام اور آپ کے نانا جان صلَّی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami