Share this link via
Personality Websites!
طرف اَخْلاق و کردار اور سچّائی کی طاقت تھی۔ جب یہ دونوں طاقتیں آپس میں ٹکرائیں تو حق اور اَخْلاقی سچّائی کی طاقت نے یزیدیت کو ریزہ ریزہ کر کے رکھ دیا۔ یہی بات ہے جو اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں اِرْشاد فرمائی، میں نے ابتدا میں قرآنِ کریم کی ایک آیتِ کریمہ تِلاوت کی، اللہ پاک فرماتا ہے:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌؕ-وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ(۱۸)
(پارہ:17، سورۂ الانبیاء:18)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالایمان: بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا بھیجہ نکال دیتا ہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتا ہے اور تمہاری خرابی ہے ان باتوں سے جو بناتے ہو۔
پتا چلا؛ حق اور باطِل ہمیشہ آپس میں ٹکراتے رہتے ہیں، باطِل کے پاس چاہے طاقت ہو، چاہے مال و دولت ہو، چاہے اقتدار اور تخت ہو، حق کی ہمیشہ فتح ہوتی ہے اور باطِل کا بھیجہ نکل جاتا ہے۔
حقیقتِ اَبَدِی ہے مقامِ شَبِّیری بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفِی و شامی([1])
آپ کربلا کے فورًا بعد کے حالات دیکھیے! کُوفَہ، شام، عراق، یہ جو پُوری پٹّی ہے، کربلا سے پہلے یہاں یزید کی مقبولیت تھی، اسی مقبولیت کی وجہ سے ہی تو یہ تخت پر قبضہ جما گیا تھا لیکن کربلا کے فورًا بعد ہی حالات بدل گئے۔
روایات میں ہے: یزیدی لشکر نے شہیدانِ کربلا کے مقدّس سر نیزوں پر اُٹھائے۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami