Share this link via
Personality Websites!
ناراض ہوتا ہے اور جُھوٹے کو اُس کا جھوٹ نقصان پہنچاتا ہے، تب سے آج تک میں نے جُھوٹ نہیں بَوْلا۔([1])
آپ امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کے اِس دعویٰ کی قیمت پہچان سکتے ہیں؟ وہ جو خُون کے پیاسے تھے، وہ جو پیسے دے کر، لالچ میں مبتلا کر کے، امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کے خِلاف پروپیگنڈا(Propaganda) کر کےلوگوں کو آپ کے خِلاف کر رہے تھے، امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ اُن کے سامنے کھڑے ہو کر دعویٰ کر رہے ہیں کہ حُسَین کی زبان سے آج تک جھوٹ کا ایک لفظ بھی نہیں نکلا ہے۔
کسی ایک یزیدی میں بھی ہمت نہیں تھی کہ اس دعوئ حُسَینی کا رَدّ کر سکے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ نے یزیدیت کے سامنے کھڑا ہونا تھا، یزید کے اَخْلاق و کردار پر بات کرنی تھی، یزیدیت کے غرور کو خاک میں مِلانا تھا، لہٰذا آپ کو بچپن شریف ہی سے بتا دیا گیا کہ اے شہزادۂ ذیشان...!! آپ نے یزیدیت کو مٹانا ہے، لہٰذا آپ کی زندگی مبارَک میں ایک لمحہ بھی قابِلِ اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
غرض؛ کربلا امامِ عالی مقام امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کی 56 سالہ زندگی کی سند تھی کہ ان کے کردار میں ایک لمحہ بھی قابِلِ اعتراض نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو یزیدی اس پر اُنگلی اُٹھا دیتے۔
باطِل کا بھیجہ نکال دیا جاتا ہے
تو میں عرض کر رہا تھا کہ یہ 2طاقتوں کا ٹکراؤ تھا، ایک طرف *تاج و تخت کی طاقت تھی *فوج اور لشکر کی طاقت تھی *خزانوں اور مال و دولت کی طاقت تھی اور *دوسری
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami