Share this link via
Personality Websites!
صفحات پر بڑی بڑی شہادتیں مِل جائیں گی لیکن امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ نِرالے رنگ کے شہید ہیں، آپ پیدا ہوئے تو ساتھ ہی شہادت کی خبر بھی آ گئی۔
آپ نے بہت ساری روایات سُنی ہوں گی، آپ نے روایت سنی ہو گی، امام عالی مقام امام حسین رَضِیَ اللہ عنہ اپنے نانا جان محبوب خدا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے پاس کھیل رہے تھے تو جبریل امین علیہ السَّلام حاضر ہوئے، امام حسین رَضِیَ اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے عرض کیا کہ انہیں آپ کی امت شہید کر دے گی،یہ سن کر پیارے آقا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی مبارک آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور امام حسین رَضِیَ اللہ عنہ کو سینے سے لگا لیا۔([1])
کیا وجہ ہے؟ دُنیا کے ہزاروں لاکھوں شہیدوں میں صِرْف ایک آپ ہی کی شہادت کی خبر کو اتنا مشہور کیوں کیا گیا؟ کیا یہ محض ایک غیب کی خبر دینا مقصُود تھا...؟ نہیں، پیارے اسلامی بھائیو! یہ خبرِ شہادت کو یُوں شہرت دینا بےوجہ نہیں تھا۔ اَصْل میں یزیدیت کے سامنے کھڑے ہونا کوئی آسان بات نہیں ہے۔
میدانِ کربلا میں امام حُسَین کا چیلنج
روایات میں ہے: امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ نے میدانِ کربلا میں کھڑے ہو کر لمبا خطبہ اِرْشاد فرمایا، اس میں فرمایا:
وَالله مَا تَعَمَّدْتُ كَذِبًا مُذْ عَلِمْتُ اَنَّ الله يَمْقُتُ عَلَيْهِ اَهْلَهُ، وَيَضُرُّ بِهِ مَنْ اِخْتَلَقَهٗ
ترجمہ: اے یزیدیو...!! خُدا کی قسم...!! جب سے مجھے مَعْلُوْم ہوا ہے کہ جُھوٹے پر اللہ پاک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami