Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! ہم کربلا پر ذرا غور کریں؛ کربلا کیا ہے؟ کیا یہ 2شخصوں کی لڑائی تھی؟ نہیں۔ یہ 2شخصوں کی لڑائی نہیں ہے۔ لوگ تو آپس میں لڑتے ہی رہتے ہیں، اگر یہ صِرْف 2شہزادوں کی لڑائی ہوتی تو تاریخ کے کسی صفحے پر لکھی ہوئی دفن ہو جاتی *کیا یہ جائیداد کی لڑائی تھی؟ نہیں، جائیداد کی لڑائی بھی نہیں تھی *کیا یہ تخت و حکومت کی لڑائی تھی، نہیں، یہ تاج و تخت کی لڑائی بھی نہیں تھی۔ ایسی لڑائیاں تو دُنیا میں ہوتی ہی رہتی ہیں، اگر یہ صِرْف تاج و تخت کی، یا 2شہزادوں کی ہی بَس لڑائی ہوتی تو اسے تاریخ میں اس طرح سے زندہ نہ رکھا جاتا، اور بہت ساری جنگوں کی طرح یہ بھی تاریخ کے کسی صفحے پر دفن کر دی جاتی۔
یہ حقیقت میں 2مختلف طاقتوں کا ٹکراؤ تھا: (1):ایک طرف اِقْتدار کی طاقت تھی (2):دوسری طرف اَخْلاق اور کردار کی طاقت تھی۔ دیکھیے! کربلا میں *فوجی طاقت کس کے پاس تھی؟ یزید کے پاس *خزانہ کس کے پاس تھا؟ یزید کے پاس *ظاہِری اسباب کس کے پاس تھے؟ یزید کے پاس۔ ایک لڑائی جیتنے کے لیے جو کچھ درکار ہوتا ہے، وہ سب کچھ یزید کے پاس تھا۔
امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کے پاس کیا تھا؟ *اِیْمان *تقویٰ *صبر *تَوَکُّل *کردار *اَخْلاقی سچّائی *بےداغ ماضِی۔ یہ ساری دولتیں، یہ ساری کی ساری طاقتیں امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کے پاس تھیں۔
خبرِ شہادت کی شہرت میں ایک حکمت
آپ نے کبھی غور کیا؛ دُنیا میں شہید اَور بھی بہت ہوئے ہیں، آپ کو تاریخ کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami