Share this link via
Personality Websites!
اس کے ساتھ ہی ایک شدید زَلْزَلہ آیا، زمین و آسمان کانپ گئے، مَشْرِقْ و مَغْرِبْ میں اندھیرا چھا گیا اور آسمان سے خالص خُون کی بارش برسنے لگی، یہاں تک کہ شام کے محلّات کی دِیواریں بھی خُون سے رنگین ہو گئیں۔([1])
عشق میں کیا بچائیے! عشق میں کیا لُٹائیے!
آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر
آلِ نبی کا کام تھا، آلِ نبی ہی کر گئے
کوئی نہ لکھ سکا ادیب ایسی کتاب ریت پر
پیارے اسلامی بھائیو! کربلا ایک امتحان تھا، گو کہ یہ امتحان سخت تھا، بہت ہی دُشْوار تَرِین تھا مگر اَہْلِ بیتِ پاک نے یہ امتحان دیا، خُوب دِیا، ایسے بےمثال انداز میں دِیا کہ کمال کر دیا۔ ایک فارسی شاعِر لکھتا ہے:
تَاقیامَتْ قَطْعِ اِسْتِبْدَاد کَرْد
مَوْجِ خُونِ اُوْ چَمَن اِیْجَاد کَرْد([2])
وضاحت: یعنی امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ نے اپنا خُون دے کر چمن کو آباد کیا، حق کی راہ پر پہرا دے کر قیامت تک کے لیے یزیدیت کو دُھول چٹا دی۔
فِطْرَت کی مصلحت کا اِشارہ حُسَین ہے قربانیوں کی آنکھ کا تارا حُسَیْن ہے
وہ اس لیے لڑے کہ ستم کو مِٹا سکیں پھر کیوں نہ ہم کہیں کہ ہمارا حُسَیْن ہے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami