Share this link via
Personality Websites!
حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ ذُو الفقار ہاتھ میں لیے، سر پر عمامہ سجائے سُواری پر سُوار ہوئے اور یزیدی لشکر کی طرف بڑھ گئے۔([1])
آئے ہیں اب میدان میں علی مرتضیٰ کے پھول
زہرا بتول اور چمنِ مصطفےٰ کے پھول
ان کی وفا، صبر و رضاِ حق پر ثبات سے
ہر دم ہیں تازہ گلشن دیں میں وفا کے پھول
یزیدی لشکر نے گھیرا تنگ کیا مگر یہ حیدرِ کرّار رَضِیَ اللہ عنہ کے لختِ جگر ہیں، شیرِ خُدا کے شہزادے ہیں، اللہ! اللہ...!! اس وقت حملۂ حُسینی کا منظر ایسا تھا جیسے بکریوں کے ریوڑ پر کسی شیر نے حملہ کر دیا ہو، جس طرف رُخ فرماتے ہیں، یزیدیوں کو گاجر مُولی کی طرح کاٹتے اور جہنّم پہنچاتے جاتے ہیں، جدھر رُخ مبارَک ہو جاتا ہے، دُشمن کو میدان چھوڑ کر پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔
آخِر شمر بدبخت نے جب کام نکلتا نہ دیکھا تو لشکر کو پُکار کر کہا: تمہاری مائیں تمہیں پیٹیں، کیا اِنتظار کر رہے ہو، حُسَین کو شہید کر ڈالو...!! اب چاروں طرف سے یزیدیوں نے گھیرا تنگ کیا، زُرْعَہ بن شَریک نے کندھے مبارَک پر تلوار ماری، امامِ پاک تھک گئے، زخموں سے چُور ہیں، 33 زخم نیزے کے، 34 زخم تلوار کے آئے، تیروں کا شُمار نہیں، اسی حالت میں سِنَان بدنصیب نے نیزہ مارا، وہ عرش کا تارا زمین پر گِرا اَور سَر مبارَک تَن سے جُدا کر لیا گیا۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami