Share this link via
Personality Websites!
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں تو وہ اس کادماغ توڑ دیتا ہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتا ہے اور تمہارے لیے بربادی ہے ان باتوں سے جو تم کرتے ہو۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! آج 10 محرّم شریف کا عظیم دِن ہے، آج سے کم و بیش 1400 سال پہلے اسی تاریخ اور اسی دِن (یعنی جمعہ ہی کو) کَرْبَلا کے تپتے ہوئے ریگستان میں اَہْلِ بیتِ پاک کا امتحان ہو رہا تھا ۔
آہ...!! وہ وقت...!! کہ72 رفقاء دادِ شُجاعت دیتے ہوئے، یزیدیوں کو انجام تک پہنچاتے ہوئے شہادت کے رُتبے پر فائِز ہو چکے ہیں، امامِ عالی مقام، امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ ایک ایک بہادر کو میدان میں اُتارتے رہے اور یہ آیتِ کریمہ پڑھتے رہے۔([1])
فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ (پارہ:21، سورۂ احزاب:23)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی ابھی انتظار کر رہا ہے۔
آہ...!! اب آپ تنہا رہ گئے ہیں، امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ خیمے میں تشریف لے کر گئے، پردہ دار، صبر پسند نیک اور پاکیزہ خواتین کو صبر کی تلقین فرمائی، نصیحت کی کہ خبر دار...!! صبر کا دامن کسی کے ہاتھ سے نہ چُھوٹے، کوئی خِلافِ شریعت کام نہ کیا جائے۔
یہ نصیحتیں فرما کر، عابِدِ بیمار رحمۃُ اللہ علیہ کو سینے سے لگانے کے بعد امامِ عالی مقام امامِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami