Share this link via
Personality Websites!
سایۂ عرش کی طرف جلدی بڑھنے والا
مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان، حضرت عائشہ صِدِّیْقہ طَیِّبہ طَاہِرہ رَضِیَ اللہ عنہا سے روایت ہے: ایک دِن پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ قیامت کے دِن عرشِ اِلٰہی کے سائے کی طرف جلدی بڑھنے والا کون ہو گا؟ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا: اللہ و رسول خُوب جانتے ہیں۔ فرمایا: وہ لوگ کہ جب حق دئیے جائیں تو اُسے قبول کر لیں۔([1])
مِرآۃ المناجیح میں ہے: اس کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ وہ لوگ کہ جب کوئی اُنہیں حق بات سُنائے تو اُسے قبول کر لیں اور سُنانے والے کا احسان مانیں، اُسے قبول کرنے میں شرم محسوس نہ کریں، وہ لوگ عرشِ اِلٰہی کے سائے میں جلدی پہنچ جائیں گے۔([2])
اللہ پاک ہمیں بھی حق بات قبول کرنے اور اس پر عَمَل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔
پیارے آقا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی ایک بڑی پیاری دُعا ہے:
اللہمَّ اَرِنِی الْحَقَّ حَقًا وَّارْزُقْنِیْ اِتْبَاعَہٗ وَ اَرِنِیْ الْبَاطِلَ بَاطِلاً وَّارْزُقْنِیْ اِجْتِنَابَہٗ
ترجمہ: اے اللہ پاک! مجھے حق کو حق دیکھنے اور اس کی پیروی کی توفیق نصیب فرما، باطِل کو باطِل ہی دیکھنے اور اس سے بچنا نصیب فرما۔([3])
یقیناً پیارے مَحْبوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم تو باطِل سے بہت دُور، حق ہی حق کے پیروکار
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami