Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! سچّ کہاں ہے؟ ہر وہ چیز جو ٹرینڈنگ میں ہو، وہ درست بھی ہو، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ 61 ہجری میں یزید ٹرینڈنگ پر تھا، فوج، طاقت، تاج و تخت و خزانہ سب اس کے پاس تھے، اگر خدانخواستہ امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ تھوڑا سا بھی اس کے ساتھ کمپرومائز(Compromise) کر جاتے تو سوچئے کیا کا کیا ہو جاتا... مگر آپ نے کمپرومائز نہیں کیا۔ آپ تنہا تھے، تنہا ہی سچّ پر کھڑے ہو گئے۔
افسوس! آج ہم نے کربلا کو 61 ہجری کا ایک واقعہ سمجھ لیا ہے، یاد رکھیے! کَرْبَلا ہر اس لمحے کا نام ہے جب *ہمارا فائدہ اور سچّائی آمنے سامنے آجاتے ہیں *جب مقبولیت اور اُصُول ٹکرا جاتے ہیں *جب طاقت اور حق ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں، چاہے وہ ہماری روز مرَّہ زِندگی ہی میں کیوں نہ ہو، اَخْلاقی سچّائی اور طاقت و مقبولیت کا یہ لمحہ کَرْبَلا ہے، اس وقت ہم نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم کس طرف ہوں گے؟ جس طرف زمانہ چل رہا ہے، جدھر مقبولیت زیادہ ہے، جس سمت پر مال زیادہ ہے، اس طرف جھکیں گے یا کردار، اَخْلاق، سچّائی اور حق پر ثابت قدمی دکھائیں گے۔ یہ ہمارا امتحان ہے۔
کَرْبَلا ہمیں سکھاتی ہے کہ طاقت، ٹرینڈ(Trend)، شہرت، مقبولیت سب ہار جاتے ہیں، جِیت ہمیشہ اَخْلاق، کردار، سچّائی، عدل اور ضمیر کی ہوتی ہے۔ لہٰذا روز مرَّہ زِندگی میں اس اُصُول اور کَرْبَلا کے اس نتیجے کو اپنائیے! ہمیشہ یاد رکھیے! سچّ تنہا بھی ہو، گمنام بھی ہو، بےآسرا بھی ہو، سچ تب بھی سچ ہوتا ہے، جُھوٹ اور باطِل چاہے جتنا بھی مشہور ہو، جتنا بھی مَقْبول ہو، جھوٹ آخِر جھوٹ ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا کَرْبَلا کو اپنے اندر اُتارئیے! اپنی زندگی کا حصّہ بنائیے! *اُصُول، کردار، اَخْلاق اور سچّائی پر ہمیشہ قائِم رہیے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami