Share this link via
Personality Websites!
ہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتا ہے۔
کی عملی تفسیر...!! حسینی حق اس زور کے ساتھ یزیدی باطِل سے ٹکرایا کہ یزیدیت کا بھیجہ نکال کر رکھ دیا۔
حُسَین زِندہ ہیں دَسْتُورِ زندگی کی طرح
شہید مرتے نہیں عام آدمی کی طرح
یزید ڈوب گیا شام کے اندھیروں میں
حسین پھیلے ہیں ہر دِل میں روشنی کی طرح
آج کی کربلائیں اور ہمارا کردار
پیارے اسلامی بھائیو! یہ کربلا ہے، اس میں طاقت ہار گئی، فوج ہار گئی، خزانے ہار گئے، مقبولیت ہار گئی، تاج و تخت ہار گئے، کردارِ امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ جیت گیا، حق جیت گیا، سچّائی جیت گئی۔ لیکن ایک بڑا مسئلہ ہے، ہم لوگ کَرْبَلا کو 61 ہجری کا ایک واقعہ سمجھتے ہیں، نہیں...! ایسا نہیں ہے۔ کَرْبَلا آج بھی موجود ہے۔
آپ کَرْبَلا کے مرکز کو دیکھیے! امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کا بنیادی مُوقِّف ہی یہی تھا؛ یزید کے پاس طاقت ہے مگر اس کے پاس اَخْلاقی سچّائی نہیں ہے، اس کے پاس کردار نہیں ہے، لہٰذا اُس کی بیعت نہیں کی جائے گی۔
سوچنے کی بات ہے کہ آج ہم کس طرف ہیں...؟ *ہم طاقت کو ترجِیح دیتے ہیں یا اَخْلاقی سچّائی کو ترجِیح دیتے ہیں؟ *ہم شُہرت کے پیچھے بھاگتے ہیں یا اپنے کردار کو سنوارنے کی فِکْر کرتے ہیں؟ *ہمیں پیسہ چاہیے؟ عزّت، مقام، عہدے چاہئیں یا ہم اپنے اندر کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami