Share this link via
Personality Websites!
ابھی یہ واقعہ ہوا ہی تھا، تھوڑی ہی دیر بعد جَاثَلِیْق نامی ایک غیر مسلم یہاں پہنچا، اس نے بھی یہی پوچھا: اے یزید! یہ کس کا سَر ہے؟ کہا: حُسَیْن اِبْنِ علی رَضِیَ اللہ عنہما کا۔ وہ کہنے لگا: میں ابھی کچھ دَیْر پہلے سویا ہوا تھا۔ میں نے خواب دیکھا: ایک خوفناک آواز گونجی، میں نے سَر اُٹھا کر دیکھا تو ایک سُورج کی طرح روشن چہرے والے بزرگ ہیں، ان کے ساتھ کئی سارے لوگ ہیں، یہ سب آسمان سے اُتر رہے تھے، میں نے خواب ہی خواب میں کسی سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جواب ملا: یہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم اور فرشتے ہیں جو امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کی تعزیت کے لیے تشریف لا رہے ہیں۔
یہ خواب سُنا کر جَاثَلِیْق بولا: اے بدبخت! اس سَرِ پاک کو جلدی یہاں سے ہٹا دے، ورنہ تُو ہلاک ہو جائے گا۔
یزید کا تو دِل پتھر سے بھی سخت تھا، کہنے لگا: کیا جُھوٹے خواب سُنائے جا رہے ہو۔ اے سپاہیو! اسے گرفتار کر لو...!! سپاہیوں نے فورًا جَاثَلِیْق کو گرفتار کر لیا اور مارنے پیٹنے لگے، اس وقت حضرت جَاثَلِیْق رحمۃُ اللہ علیہ نے سَرِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کی طرف رُخ کر کے پُکار کر کہا: اے امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ ! اپنے نانا جان کے حُضُور گواہی دیجیے گا کہ میں اب سے مسلمان ہو تا ہوں:
اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
جب یزید نے یہ سُنا تو اور بھی بھڑک اُٹھا، بولا: اسے سُولی پر لٹکا دو...!! حضرت جَاثَلِیْق رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: اے بدبخت...!! یہ دیکھ پیارے محبوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami