Share this link via
Personality Websites!
جمعہ جمعہ 8دِن بھی نہیں گزرے تھے، اس سے پہلے ہی یزیدیت کی جَڑَیں ہِلنا شروع ہو گئیں۔
دوسری طرف امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کی مقبولیت دیکھیے کیسی بڑھی؛روایت ہے: جَالُوت نام کا ایک غیر مسلم شخص تھا، جو مُلْکِ شام ہی میں رہتا تھا، یہ یزید کے پاس پہنچا، دیکھا؛ یزید کے سامنے ایک سَر رکھا ہوا ہے، پوچھا: یہ کس کا سَر ہے؟ یزید نے بتایا: یہ حُسَیْن اِبْنِ علی (رَضِیَ اللہ عنہ) ہیں۔ جَالُوت نے جب یہ سُنا تو غُصّے سے تِلْملا گیا، بولا: اے یزید...!! مَیں حضرت داؤد علیہ السَّلام کی اَوْلاد سے ہوں، میرے اور حضرت داؤد علیہ السَّلام کے درمیان 103 نسلوں کا فاصلہ ہے، اس کے باوُجُود اَہْلِ کتاب میری تعظیم کرتے ہیں، میرے پیروں کی مٹی اُٹھا کر بطور تبرُّک استعمال کرتے ہیں اور تم بدبخت ہو، تم نے نواسۂ رسول ہی کو شہید کر ڈالا۔
اب یزید بدبخت کی بےباکی دیکھیے! کہنے لگا: تم اَہْلِ کتاب ہو اور جِزْیَہ دے کر ہمارے مُلک میں رہتے ہو، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی حدیث ہے: جو جِزْیَہ دے کر رہنے والوں کو قتل کرے گا، روزِ قیامت میں اس کے مدِّ مقابِل رہوں گا۔
یزید بدبخت یہ حدیث سُنا کر بولا: اگر یہ حدیث نہ ہوتی تو اے جالُوت...! میں تمہیں قتل کر ڈالتا۔ جالُوت نے گرج کر کہا: اے بدبخت! وہ مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم ! ایک غیر مسلم کے تو دعویدار ہوں گے، کیا اپنے نواسے کا بدلہ تم سے نہ لیں گے۔ اے بدنصیب گواہ ہو جا، میں ابھی سے مسلمان ہوتا ہوں، یہ کہہ کر حضرت جالُوت رحمۃُ اللہ علیہ نے کلمہ پڑھا اور دائرۂ اسلام میں داخِل ہو گئے۔ آہ! جُونہی یہ مسلمان ہوئے، یزید بدنصیب نے ان کی گردن اُڑا دی۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami