Share this link via
Personality Websites!
جب رات ہوئی، یزیدیوں نے سرِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ ایک جگہ پر رکھا اور اپنے مَعْمُولات میں مَصْرُوف ہو گئے۔ جب رات خُوب چھا گئی تو یہاں ایک نَصْرانِی راہِب (یعنی عیسائیوں کا مذہبی پیشوا) تھا، اُس نے دیکھا کہ کہیں سے اَنْوار پُھوٹ رہے ہیں اور کسی کے تسبیح پڑھنے کی ہلکی ہلکی آواز آ رہی ہے۔ جب اس نے آگے بڑھ کر دیکھا تو سرِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ سے نُور کی شُعاع نکل کر آسمان تک جا رہی ہے۔
راہِب یہ منظر دیکھ کر بڑا حیران ہوا، صبح ہوئی، اُس راہِب کو مَعْلُوْم ہوا کہ یہ نواسۂ رسول امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کا سَر مبارَک ہے تو اس نے یزیدی بدبختوں کو کچھ مال و دولت دے کر تھوڑی دیر کے لیے سَرِ مُبَارَک اپنے گھر لے گیا۔ اس نے سرِ پاک کو اپنے سامنے رکھا، دیکھتا جاتا اور روتا جاتا تھا، آخر دیدارِ امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کی برکت سے اُس کا سینہ روشن ہوا اور اس نے پُکار کر کہا: اے امام...!! افسوس! میں آپ کے قدموں پر اپنی جان قربان نہ کر پایا، اب بَس اتنی سی درخواست ہے، آپ اپنے نانا جان کی خِدْمت میں مجھ گنہگار کی سفارِش کر دیجیے گا اور عرض کر دیجیے گا کہ میں اللہ پاک کے ایک ہونے اور مُحَمَّد صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کے سچّے نبی ہونے کی گواہی دیتا ہوں۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! روایتیں اور بھی ہیں، خُلاصہ یہ ہے کہ شہادتِ امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کے فورًا بعد ہی حالات پلٹا کھا گئے، وہی علاقے، وہ قلعے جہاں یزید پلید کی مقبولیت تھی، امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کے شہادت کے بعد ہی یزید اور یزیدیوں پر پھٹکار پڑ گئی اور یہ جگہ جگہ ذلیل ہونا شروع ہو گئے۔ ہمارے ہاں کہتے ہیں نا کہ ابھی تَو شہادتِ امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami