Share this link via
Personality Websites!
اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم پر درود بھیجنے لگے، ساتھ ہی کہتے جاتے تھے:
یَا قَتَلَۃَ اَوْلَادِ الْاَنْبِیَا اُخْرُجُوْا مِنْ بَلَدِنَا
ترجمہ: اے اولادِ انبیا کے قاتلو...!! ہمارے شہر سے دفع ہو جاؤ!
یہ قافلہ یہاں سے بھی ذلیل ہو کر نکلا، اب یہ لوگ مُوصَل پہنچے، وہاں کے لوگوں کو جب خبر ہوئی تو انہوں نے 40 ہزار کا لشکر تیار کیا اور یزیدی قافلے کے ساتھ جنگ کر کے، انہیں جہنّم پہنچا کر مقدَّس سروں کو ادب سے دفن کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا، یہ بات جب یزیدی قافلے کو مَعْلُوْم ہوئی تو وہ لوگ موصَل قلعے میں داخل ہونے سے پہلے ہی راستہ بدل کر فرار ہو گئے۔ پھر قَيْسَرِينَ پہنچے، وہاں کے لوگوں نے بھی ان پر لعنتیں بھیجیں، وہاں سے بھی ذلیل ہو کر نکلے، پھر مَعْرَةُ النُّعْمَان پہنچے، وہاں بھی ذِلّت اُٹھائی، پھر یہ قافلہ سِیْبُور نامی قلعے پہنچا، یہاں کے لوگوں نے چھپ چھپا کر تیاری کی، نوجوانوں کو تیار کر لیا، جُونہی یزیدی قافلہ یہاں پہنچا تو ان لوگوں نے یزیدیوں پر حملہ کر کے 700 یزیدیوں کو جہنّم پہنچا دیا۔ غرض؛ یہ لوگ یہاں سے بھی بہت ذلیل ہو کر نکلے، پِھر یہ لوگ حِمْص نامی شہر پہنچے، یہاں کے لوگوں نے ان پر پتھر برسائے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ لوگ جگہ جگہ ذلیل و خوار ہوتے، لوگوں کے طعنے سُنتے، پتھر کھاتے ہوئے بَعْلَبَکَّ نامی شہر پہنچے، یہاں کے لوگوں نے انہیں رہنے کے لیے جگہ دِی، یہاں ان بدنصیبوں کو چین سے رات گزارنا تَو نصیب ہو گیا مگر یہاں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami