Share this link via
Personality Websites!
حاضِری دے کر، خواب میں اپنے نانا جان، رحمتِ دوجہان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا دِیدار پا کر، نصیحت کی باتیں سُن کر اُٹھے، جنّت البقیع میں اپنی اَمِّی جان حضرت فاطمۃ ُالزّہرا رَضِیَ اللہ عنہا اور بھائی جان امامِ حَسَن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہ کے مزارِ پاک پر حاضِر ہوئے، وہاں بھی (قبر شریف سے ہٹ کر، قبلے کی جانِب رُخ کر کے) نوافِل ادا کئے، اپنی اَمِّی جان اور بھائی جان کو سلام عرض کیا، اپنے دِل کا غم سُنایا اور گھر واپس آ گئے۔ ([1])
اب خاندانِ اَہْلِ بیت کو مدینۂ پاک سے کُوچ کرنا اور فی الحال مکّہ پاک جانا تھا۔ تیاریاں مکمل ہو ہی رہی تھیں کہ حضرت محمد بن حنفیہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ جو حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ کے بیٹے اور امامِ حُسین رَضِیَ اللہ عنہ کے باپ شریک بھائی ہیں، وہ حاضِر ہوئے۔ دونوں بھائیوں کی آپس میں لمبی گفتگو ہوئی، آخِر امامِ عالی مقام، امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ نے اپنی آخری وصیت لکھی اور حضرت محمد بن حنفیہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے سپرد کی۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! اِس آخری وصیت میں آپ نے جو کچھ لکھا، یُوں سمجھ لیجیے کہ آپ کے یہ مبارَک الفاظ کربلا کا پُورا راز کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ آپ نے لکھا:
اِنِّی لَمْ اَخْرُجْ اَشِرًّا، وَ لَا بَطَرًا، وَلَا مُفْسِدًا، وَ لَا ظَالِمًا
ترجمہ: یعنی میں یہ سَفَر * شر پھیلانے*شیخی مارنے*فساد برپا کرنے *یا ظُلْم کرنے کے لیے نہیں کر رہا۔
وَ اِنَّمَا خَرَجْتُ اَطْلُبُ الْاِصْلَاحَ فِی اُمَّۃِ جَدِّیْ مُحَمَّدٍ
ترجمہ: اس سَفَر سے میرا مقصُود صِرْف و صِرْف اپنے نانا جان کی اُمّت کی اِصْلاح ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami