Share this link via
Personality Websites!
کے پاس اچھا ثواب ہے۔
اِس سے مَعْلُوم ہوا؛ وہ لوگ جنہوں نے دِین کی خاطِر اپنا گھر بار چھوڑا، اللہ پاک کی راہ میں ستائے گئے، رَبّ کے دُشمنوں کے ساتھ جنگ کی اور شہید کر دئیے گئے، اُنہیں اللہ پاک جنّت کے باغات میں داخِل فرمائے گا، وہ باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔([1])
یہ آیتِ کریمہ امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ اور آپ کے رُفَقا کی بےمثال قربانیوں کی مکمل عکّاسِی کرتی ہے، یہ وہی بلند شان والے لوگ تھے، جنہیں دِین کی خاطِر اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا، انہیں ستایا گیا، ان کا پانی بند کیا گیا، بھوکا پیاسا رکھا گیا، یہی وہ بلند شان والے ہیں، جنہوں نے یزیدی لشکر کے چھکے چُھڑا دئیے! آخر شہادت کا رُتبہ پایا اور امتحان میں کامیاب و کامران ہو گئے۔
گھر لُٹانا جان دینا، کوئی تجھ سے سیکھ جائے جانِ عالَم ہو فِدا اے خاندانِ اَہْلِ بیت
دولتِ دیدار پائی، پاک جانیں بیچ کر کر بلا میں خُوب ہی چمکی دُکانِ اَہْلِ بیت([2])
وضاحت:اے خاندانِ اہلِ بیت !عالَم کی جان تم پر قربان ہو!اللہ پاک کی راہ میں قربانیاں کیسے دی جاتی ہیں؟دین و ایمان کی حفاظت کی خاطِر گھر بار کیسے قربان کیا جاتا ہے ؟ اگر کسی نے یہ سیکھنا ہے تو تم سے سیکھے، کیا ہی بہترین سودا ہے کہ کربلا کی تپتی ریت پر جان قربان کر کے اللہ پاک کا دیدار حاصل کیا ۔
خیر...!! پیارے اسلامی بھائیو! امامِ عالی مقام، امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ روضۂ پُرنُور پر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami