Share this link via
Personality Websites!
کسی شاعِر نے اس روایت کو شعروں کی شکل میں یُوں بیان کیا ہے:
شبیر نے سَر نانا کی چھاتی سے لگایا رَو کر کہا جس دِن سے اُٹھا آپ کا سایا
اے راحتِ جاں! چین نہ ہم نے کہیں پایا اب لے چلو ساتھ اپنے کہ اُمّت نے ستایا
وہ بولے کہ کیا وعدہ وفا کر چکے شبِّیر! سَر کو مِری اُمّت پہ فِدا کر چکے شَبِّیر!
کیا لاشۂ اکبر پہ بُکا کر چکے شَبِّیر! خنجر کے تلے شکرِ خُدا کر چکے شَبِّیر!
شَبِّیر! یہ سب شرطیں ہیں آنے میں تمہارے کیا یہ کلمہ گو نہیں تم کو مِرے پیارے؟
گر حلق کو کٹوا چکے ہو، آؤ! مری جاں...!!
اُمّت کو جو بخشا چکے ہو، آؤ! مری جاں...!!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
جو راہِ خُدا میں نکلے اور شہید ہوئے
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۚ-ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ(۱۹۵)
(پارہ:4، سورۂ ال عمران:195)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:پس جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں ستایا گیا اور انہوں نے جہاد کیا اور قتل کردیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹادوں گا اور ضرور انہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (یہ) اللہ کی بارگاہ سے اجر ہے اور اللہ ہی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami