Share this link via
Personality Websites!
بےچین ہے، بَس یہ آخری سلام قبول فرما لیجیے! ([1])
اَلْوِداعی سلام پیش کرنے کے بعد امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے، بیٹھے بیٹھے آپ کی آنکھ لگ گئی اور خواب میں نواسے کے ناز اُٹھانے والے آقا، کندھوں پر بٹھانے والے آقا، گود میں کھلانے والا آقا، مبارَک پیٹھ پر سُوار کر کے جُھولے دِلانے والے آقا، مَحْبُوب مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم خواب میں تشریف لے آئے، فرمایا: بیٹا...!! تمہارے اَمِّی، ابّو اور بھائی تو میرے پاس آچکے ہیں، تمہارے آجانے کا شِدَّت سے انتظار ہے، فَعَجِّلْ بِالْقَدُوْمِ حُسَین...!! تم بھی جلدی آجاؤ...!! ([2])
ایک روایت میں ہے: خواب ہی خواب میں امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ نے عرض کیا: نانا جان...!! میں خواب کی دُنیا میں آپ کی خِدْمت میں حاضِر ہوں، اب میں واپس نہیں جانا چاہتا ہے، بَس یہیں سے مجھے اپنے ساتھ لے چلیے...!! فرمایا: حُسَین! واپس تَو جانا ہو گا ۔([3])
یَا بُنَیَّ! اِنَّ لَکَ دَرَجَۃً مُغَشَّاۃً بِنُورِ اللہ وَ لَسْتَ تَنَالُہَا اِلّا بِالشَّہَادَۃِ
ترجمہ: بیٹا...!! تمہارے لیے ایک خاص درجہ ہے، اُس درجے کو نُورِ اِلٰہی نے ہر طرف سے ڈھانپ رکھا ہے، بیٹا...!! تم اس درجے تک بغیر شہادت کے نہیں پہنچ سکتے۔
بَس! جلد ہی وہ وقت بھی آجائے گا، تم شہادت کا رُتبہ پا کر (صبر و استقامت کی لازوال مثال قائِم کرنے کے بعد) ہم تک پہنچ جاؤ گے۔ ([4])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami