Share this link via
Personality Websites!
تھا، لوگوں اپنے اپنے گھروں میں تھے مگر والیانِ اُمّت کے اُس وقت کے سردار، امامِ عالی مقام، امامِ عرش مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ فِکْرِ اُمّت میں غمگین و پریشان اپنے نانا جان، رحمتِ دوجہان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے رَوْضَہ پُرنُور پر حاضِر تھے۔ روایات کے مُطَابِق آپ رَضِیَ اللہ عنہ نے یہاں چند رکعات نماز پڑھی ، اِس کے بعد محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمتِ باسَعَادت میں سلام پیش کیا اور وہیں بیٹھ گئے۔ ([1])
تختِ حکمرانی پر یزید قبضہ جما چکا تھا، 60 ہجری کے وہ فتنے جن سے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے پناہ مانگنے کا دَرْس دیا تھا، اُن کی ابتدا ہو چکی تھی، دِلِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کو شدید خطرہ لاحق تھا کہ کہیں یہ فتنے اُمّت میں رخنے ڈال کر دِینِ اسلام میں بگاڑ پیدا نہ کر دیں، آپ رَضِیَ اللہ عنہ اُس وقت یہی غم اپنے نانا جان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں عرض کرنے کے لیے حاضِر ہوئے تھے، جونہی آپ روضَۂ پُونُور کے سامنے بیٹھے، دِل میں ٹھہرا ہوا غم کا سمندر بےساختہ اُمنڈ آیا، آپ کی مبارَک آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، امامِ حسین رَضِیَ اللہ عنہ خُوب رَوئے، دِل کھول کر اپنا غم ہلکا کیا۔ پِھر یُوں عرض گزار ہوئے: یارسُولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، آہ! دِل بےتاب ہے، مجھے عنقریب آپ کے جوارِ رحمت (رحمتوں بھرے پڑوس یعنی مدینۂ پاک) سے دُور جانا پڑ رہا ہے۔ پیارے نانا جان...!! آہ! یہ جُدائی کی گھڑیاں ہیں۔ یزید پلید جو شرابی بھی ہے، گناہوں میں لتھڑا ہوا، فاسق و فاجِر بھی ہے، مجھ پر اس کی بیعت کر لینے کےلیے زَور ڈالا جا رہا ہے، اگر میں بیعت کر لُوں تو دِین میں بگاڑ آجائے گا، اگر نہ کروں تَو شہید کر دیا جاؤں گا۔ بَس اِسی لیے...!! نانا جان! صِرْف اِسی لیے مجھے مدینے سے جانا پڑ رہا ہے، آہ! مدینہ چُھوٹ رہا ہے، دِل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami