Share this link via
Personality Websites!
اور چل دیا۔
تارِ مَا اَزْ زَخْمَہ اَشْ لَرْزَاں ہَنُوْز تَازَہ اَزْ تَکْبِیْرِ اُو اِیْمَاں ہَنُوْز([1])
ترجمہ: امامِ حُسین ہی ہیں، جن کے صدقے ہماری زندگی کے تار ابھی تک لرز رہے ہیں، آپ نے زمینِ کربلا میں جو تکبیر بلند کی تھی، وہ تکبیر آج تک ہمارا اِیْمان تازہ کر رہی ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ امامِ عالی مقام، امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کی اُس بےمثال قربانی کا اِیْمانی اَثَر اتنا طاقتور ہے کہ 15 صدیاں گزرنے کو ہیں مگر آج تک اُس شہادت کا اَثَر ہم عملی طَور پر اپنے دِل میں مَحْسُوس کرتے ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہ سچّی بات ہے، آپ کو مُعاشرے میں ایسے ہزاروں لوگ ملیں گے*جو 10 مُحَرَّم شریف کا باقاعدگی سے روزہ رکھتے ہیں*10 مُحَرَّم شریف کو باقاعدگی سے صدقہ خیرات ہیں*10 مُحَرَّم شریف کو ایک الگ طرح کے اِیْمانی خُمار کی کیفیت میں رہتے ہیں۔ یہ میدانِ کربلا میں پیش کی گئی اُس بےمثال قربانی کا فیضان ہے۔
اللہ پاک ہمیں شہیدانِ کربلا، اَسِیْرانِ کربلا کا باوَفَا بنائے اور صحیح معنوں میں اُن کی سیرت پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
پیارے اسلامی بھائیو! کربلا میں کیا ہوا، یہ تو تقریباً ہم سب جانتے ہی ہیں، البتہ! بطورِ خاص امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ نے میدانِ کربلا میں یہ 3دِن کیسے گزارے، اِس تَعَلُّق سے کچھ روایات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، اِس سے پہلے آئیے! امامِ حُسَین کی مدینے سے روانگی کا مَنْظَر سنتے ہیں:
3 شعبان، سن 60 ہجری کی بات ہے:مدینۂ پاک کی پُرنُور سرزمین تھی، رات کا وقت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami