Share this link via
Personality Websites!
عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! کل یومِ عاشُورہ (یعنی 10 مُحَرَّم شریف) کا مبارَک اور مُقَدَّس دِن ہے، یادِ کربلا سے دِل پُرسوز ہیں، اِیمان میں تازگی ہے اور اَلحمدُ للہ! عاشقانِ صحابہ و اَہْلِ بیت کے دِل اَہْلِ بیتِ پاک کے اِیْصالِ ثواب کی خاطِر نیک اَعْمال کی طرف مائِل ہیں۔
آپ نے کبھی غور کیا...؟ 10 مُحَرَّم شریف کو دِلوں پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوتی ہے، ایک الگ طرح کی نَرْمِی دِل میں آتی ہے، دِل کر رہا ہوتا ہے کہ آج کسی کو کچھ نہ کہوں، گھر میں کوئی ہمارے سامنے غلطی کر رہا ہو تو اُس کو ڈانٹنا بھی دِل پر بھاری پڑ رہا ہوتا ہے، یعنی یہ کیفیت عاشقانِ صحابہ و اَہْلِ بیت کے دِلوں پر خُود بخود طاری ہورہی ہوتی ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، بہر حال حقیقت یہی ہے کہ 10 مُحَرَّم کو دِل نیکیوں کی طرف مائِل ہوتے ہیں۔
ایک فارسِی شاعِر نے بڑے مختصر الفاظ میں کربلا کا واقعہ بیان کیا اور آخر میں اس کیفیت کا سبب بھی بتایا ہے۔ فارسی اَشْعار (اور اُن) کا اردو ترجمہ سنیے!
خَاسْتْ آں سَر جَلْوَۂ خَیْرُ الْاُمَمْ چُوں سَحَابِ قِبْلَہ بَارَان دَرْ قَدَم
ترجمہ:وہ خیر الامم کا جلوہ اس طرح اُٹھا جیسے قبلہ کی طرف سے پانی سے بھرا بادل اُٹھتا ہے۔
بَر زَمِیْنِ کربَلا بَارِیْدورَفْتْ لَا لَہَ دَرْ وِیْرَانَہ ہَا کَارِیْدورَفْت
ترجمہ: وہ رحمت کا بادَل زمینِ کربلا پر پہنچا، برسا اور چل دیا، اس ویرانے میں پُھول کھلائے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami