Share this link via
Personality Websites!
امامِ حُسَین اور تِلاوتِ قرآنِ کریم
پیارے اسلامی بھائیو!امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ تِلاوت کے شوقین تھے اور اتنے شوقین تھے کہ شہادت کے بعد آپ کا سَر مبارَک جب نیزے پر اُٹھایا گیا، اس وقت بھی آپ نے تِلاوت فرمائی۔ ([1])
ایک روایت میں ہے: شہیدانِ کربلا کے مبارَک سَر اِبْنِ زیاد کے سامنے لائے گئے، اس بدبخت نے خَوْلی بن یزید سے کہا: امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کا سَر تُم اپنے پاس مَحْفُوظ رکھو! کل تم سے واپس لُوں گا۔ اب خَوْلی بدبخت سَر مبارَک لے کر اپنے گھر پہنچا۔ اس نے اپنی بیوی کو بتایا نہیں کہ یہ کس کا سَر ہے۔ گھر میں ایک مَحْفُوظ جگہ پر رکھ دیا۔ خَوْلِی کی زَوْجہ کہتی ہے: اس مقدَّس سَرِ پاک سے ساری رات تِلاوت کی آواز آتی رہی، فجر کے وقت آخری آیت جو سَرِ پاک نے تِلاوت کی، وہ یہ تھی:
وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠(۲۲۷) (پارہ:19، سورۂ شعراء:227)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اورعنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔
پِھر سَرِ پاک کے قریب ایسی آوازیں آنے لگیں، گویا کہ مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں۔ حالانکہ وہاں مکھیاں نہیں تھیں۔ پس میں نے جان لیا کہ یہ فرشتوں کی تسبیح کی آوازیں تھیں۔ ([2])
سُبْحٰنَ اللہ!کیا شان ہے امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کی...!! بدقسمتی سے اب مسلمانوں کا قرآنِ کریم کے ساتھ لگاؤ کم سے کم ہوتا جا رہا ہے، اللہ پاک ہم سب کو تِلاوتِ قرآن کرنے اور قرآنِ کریم کے ساتھ جُڑ جانے کی سَعَادت عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami