Share this link via
Personality Websites!
طرف لگی ہوئی ہے، سُورج کو دیکھ رہے ہیں، ابھی سُورج عین سَر پر آ گیا، اب ذرا آگے کو بڑھا، اب ظہر کا وقت شروع ہو گیا، چَلَو...!! جلدی جلدی فرض کی ادائیگی کر لیتے ہیں، پِھر شہادت کو گلے لگائیں گے۔ کیا شان ہے کربلا والوں کی...!!
پیارے اسلامی بھائیو! اب ذرا ہم اپنے حالات پر بھی غور کر لیں...!! وہ عین لڑائی میں نماز پڑھ رہے تھے، ہم اُن کے نام کی نیاز پکاتے ہیں تو اس نیاز کی مصروفیت میں جماعت گزار دیتے ہیں بلکہ بعض تَو نماز ہی قضا کر ڈالتے ہوں گے۔ اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ ہم امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کے غُلام ہیں اور اَلحمدُ للہ! ہمارے امام ، نمازی امام ہیں۔ اِس لیے ہمیں بھی نمازی بننا ہے۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (پارہ:8، سورۂ اعراف:29)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور (یہ کہ) ہر نماز کے وقت تم اپنے منہ سیدھے کرو ۔
پتا چلا؛ کچھ بھی ہو*ہم سَفَر پر ہیں یا اپنے شہر میں*بازار میں ہیں یا گھر پر*مشکل میں ہیں یا آسانی میں*مصروفیت ہے یا فرصت*بیمار ہیں یا تندرست، کچھ بھی ہو جائے، ہر نماز کے وقت مُنہ قبلے کی طرف ہو اور بندہ نماز میں مَصْرُوف نظر آنا چاہیے۔
ہوں میری ٹوٹی پھوٹی نمازیں خُدا قبول اُن دو کا صدقہ جن کو کہا شہ نے میرے پھول
وضاحت: یعنی امام حَسَن و حُسَین رَضِیَ اللہ عنہما جنہیں سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے رَیْحَانَتَیْ یعنی میرے پھول فرمایا، اے اللہ پاک! اُن کے صدقے میری ناقِص نمازیں قبول فرما لے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami