Share this link via
Personality Websites!
امامِ عالی مقام کی خِدْمت میں حاضِر ہوئے، عرض کیا: عالی جاہ...!! شہادت تَو ہماری یقینی ہے، ظہر کا وقت شروع ہو چکا ہے، کیوں نہ ابتدائی وقت ہی میں نمازِ ظہر پڑھ لی جائے، ہم اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! فرض کی ادائیگی کے ساتھ اللہ پاک کے حُضُور حاضِری دیں گے۔
یہ سُن کر امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ نے انہی کو فرمایا: اَذِّنْ یَرْحَمُکَ اللہ اللہ پاک تم پر رحم فرمائے، اذان پڑھو...!! چنانچہ حضرت ابوتمام صَیْدَاوِی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے اذان پڑھی۔
امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ نے اِبْنِ سَعد کو پُکار کر کہا: اے اِبْنِ سعد...!! کیا تُو شریعت بُھول گیا...؟ جنگ روک کر نماز تَو پڑھ لینے دے۔ اِبْنِ سعد نے کوئی جواب نہ دیا۔ ایک یزیدی بدبخت بولا: صَلِّ! فَاِنَّ صَلَاتَکَ لَا تُقْبَلُ اے حُسَین! نماز پڑھو! تمہاری نماز قبول نہیں ہو گی۔
حضرت حبیب مُظَاہَر رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے یہ بکواس سُنی تو امامِ عالی مقام کی خِدْمت میں عرض کیا: عالی جاہ...!! آپ کی امامت میں نماز پڑھنے کا شوق تَو بڑا ہے مگر اب اجازت دیجیے کہ میں میدان میں اُتروں، اس گستاخ کو سبق سکھاؤں۔ اجازت ملنے پر آپ میدان میں اُترے اور گستاخوں کو جہنّم پہنچاتے پہنچاتے آخر شہید ہوئے اور جنّت کی طرف بڑھ گئے۔ ([1])
اِس کے بعد امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ نے نمازِ خَوْف کی صُورت میں میدانِ کربلا ہی کے اندر نمازِ ظہر اَوَّل وقت میں باجماعت ادا فرمائی۔ ([2])
سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو! کیسی عظیم شان والے یہ حضرات ہیں...!! برستے تیروں، لہراتی تَلْواروں کے بیچ میں، 3دِن کے بھوکے پیاسے، لڑتے ہوئے بھی تَوَجُّہ نماز کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami