Share this link via
Personality Websites!
میں ناراضی ہو گئی ہے۔ میں امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کی خِدْمت میں حاضِر ہوا، عرض کیا: عالی جاہ! آپ مقتدٰی ہیں، لوگ آپ کی پیروی کرتے ہیں، چلیے! بھائی جان کے ساتھ صلح کر لیجیے!
امام حُسین رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا: ابوہریرہ! میں صلح تو کر لُوں مگر میرے نانا جان کی ایک حدیثِ پاک ہے: اَلسَّابِقُ السَّابِقُ اِلَی الْجَنَّۃِ یعنی صلح میں پہل کرنے والا جنّت کی طرف سبقت کرنے والا ہے۔
اے ابوہریرہ! میں پسند نہیں کرتا کہ بڑے بھائی جان سے پہلے جنّت کی طرف بڑھوں، اس لیے مُنتَظِر ہوں کہ وہ پہل فرمائیں۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے یہ بات سُنی تو امام حَسَن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہ کی خِدْمت میں حاضِر ہوا، انہیں ساری بات بتائی، میری عرض سُنتے ہی امام حَسَن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہ تشریف لائے اور امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کو گلے لگا لیا۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیسا پیار بھرا اَنداز ہے...!! خیر! یہ بڑوں کی بڑی باتیں ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم صلح میں پہل کریں اور جنّت کے حقدار بن جائیں۔
امام حُسَیْن کی 4 پسندیدہ عِبَادات
عاشُورا کی رات جب امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ میدانِ کربلا میں تھے، آپ نے اپنے بھائی جان حضرت عبّاس علمبردار رَضِیَ اللہ عنہ سے فرمایا: کسی طرح جنگ کو کل تک کے لیے ملتوی(Postpone) کروا دیجیے! تاکہ آج رات ہم اللہ پاک کی عِبَادت کر سکیں، اللہ پاک خُوب جانتا ہے کہ مجھے (1):نماز پڑھنا(2):قرآنِ کریم کی تِلاوت کرنا (3):کثرت سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami