Share this link via
Personality Websites!
نہ چاہتے ہوئے اُن سے جنگ کرنی پڑی۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اِس سے پتا چلتا ہے کہ امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کی طبیعت مبارَک امن پسند تھی۔ یہ تَو یزیدی بدبخت تھے، جو ظُلْم کی داستان رقم کرنا چاہ رہے تھے۔
اِس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہم بھی اپنی طبیعت کو امن پسند (Peaceful) بنانے کی کوشش کریں۔ افسوس! ہمارے ہاں کثرت ہے ایسے لوگوں کی جو اَمن سے زیادہ لڑائی کی طرف رُجْحان رکھتے ہیں*بات بات پر ناراض ہو جاتے ہیں*چھوٹی چھوٹی باتوں پر سگے رشتے داروں سے تَعَلُّق ختم کر لیتے ہیں*معمولی باتوں کو اَنَا کا مسئلہ بنا کر رُوٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے۔ جب امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ میدانِ کربلا میں پہنچ کر، خُون کے پیاسوں کے سامنے کھڑے ہو کر بھی امن کی طرف مائِل تھے ۔تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنا دِلی رُجْحان ہمیشہ اَمن کی طرف رکھا کریں۔
میں یہ وَضَاحت کر دُوں؛ میں یزیدیت کے ساتھ صلح کی بات نہیں کر رہا، یزیدی سوچ رکھنے والوں کے ساتھ صلح کا تَو سُوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بات صِرْف یہ ہے کہ ہماری طبیعت میں شِدَّت نہیں، نرمی ہونی چاہیے، فساد نہیں، اَمن ہونا چاہیے۔ اِس کا اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! ہمیں فائدہ ہو گا۔
حَسَنَیْنِ کریمین کا پیار بھرا اَنداز
ایک بڑا خوبصُورت واقعہ ہے، آپ نے سُنا ہو گا؛ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ مجھے مَعْلُوم ہوا کہ امامِ عالی مقام امامِ حَسَن اور امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہما کی آپس
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami