Share this link via
Personality Websites!
پیارے آقا و مولا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ اٰیَۃً یعنی میری طرف سے پہنچا دو اگر چِہ ایک ہی آیت ہو۔([1])
امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کا صدقہ ہمیں کربلا کا یہ سنٹرل آئیڈیا سمجھنے اور اس پر عَمَل پیرا ہونے کی توفیق نصیب ہو جائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
پیارے اسلامی بھائیو! اب میں آپ کو ایک بڑی پیاری بات بتاؤں؛ عام طَور پر سمجھا یہی جاتا ہے کہ کربلا ایک جنگ (war) تھی۔ ہاں یہ جنگ ضرور تھی مگر یہ ایک طرفہ جنگ (One-sided war) تھی۔ بعض نادان معلومات کی کمی کے سبب یہ تک کہہ ڈالتے ہیں کہ یہ دو شہزادوں کی جنگ تھی۔ نہیں...!! کربلا دو طرفہ نہیں بلکہ ایک طرفہ جنگ تھی۔
کربلا کی روایات میں ہے: جب امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ میدانِ کربلا میں پہنچے، خیمے لگا دئیے گئے، سامنے یزیدی لشکر پہنچ گیا تو آپ نے خُود اِبْنِ سعد جو یزیدی لشکر کا امیر تھا، اسے پیغام بھجوایا اور مسلسل اس کے ساتھ بیٹھتے رہے، رات کو دیر دیر تک اس کے ساتھ بیٹھ کر اَمن کی راہیں نکالتے رہے، یہ جنگ نہ ہو، مسلمانوں کا خُون نہ بہے اور یزیدی لشکر خُونِ حُسَین سے اپنے ہاتھ رنگین کر کے جہنّم کے حقدار نہ بنیں، امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ نے اِس کے لیے کئی تجاویز پیش کیں مگر افسوس! یزیدی فوج آپ کی پیش کردہ کسی ایک بھی تجویز کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوئی، ان کی ایک ہی ضِدْ تھی، یا بیعت کیجیے! یا جنگ کیجیے! یزید بدبخت کی بیعت تَو چُونکہ آپ نے کرنی ہی نہیں تھی، لہٰذا امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami