Share this link via
Personality Websites!
وضاحت: آج حالات اگرچہ بدل چکے ہیں، کہیں مہنگائی کا مسئلہ، روزی روٹی کا مسئلہ، زِندگی میں مسائِل ہی مسائِل ہیں، خیر !کوئی بات نہیں...!! اُٹھو! اللہ پاک کے نام سے، 61 ہجری میں بھی زمین یہی تھی، جو آج ہے، اس وقت بھی آسمان یہی تھا جو آج ہے، لہٰذا اللہ پاک کا نام لے کر اُٹھیے! اور دُنیا بھر میں دِین کا ڈنکا بجانے میں مَصْرُوف ہو جائیے!
اے عاشقانِ صحابہ و اہلِ بیت! اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ-
(پارہ:4،سورۂ آلِ عمران:110)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:(اے مسلمانو!)تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں (کی ہدایت ) کے لیے ظاہر کی گئی، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
مَعْلُوم ہوا؛ نیکی کی دَعْوَت دینا، بُرائی سے منع کرنا بھی ہر مسلمان کی ذِمَّہ داری میں شامِل ہے لیکن افسوس! آج مسلمانوں کی اَکثریّت (Majority) اس ذِمّہ داری سے مُنہ موڑ چکی ہے۔ ایک عجیب سوچ نہ جانے کہاں سے آگئی ہے؛ ہم سمجھتے ہیں کہ نیکی کی دَعْوَت دینا، بُرائی سے منع کرنا صِرْف مَوْلَوِی اور امام صاحب کا کام ہے، باقی سب کمائیں، کھائیں اور موج کریں۔ نہیں پیارے اسلامی بھائیو! ایسا نہیں ہے۔ مشہور مفسرِ قرآن، حکیم الاُمَّت مفتی اَحْمَد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: سارے مُسلمان مُبلِّغ ہیں،سب پر ہی فرض ہے کہ لوگوں کو اچھی باتوں کا حُکم دیں اور بُری باتوں سے روکیں۔([1]) ہمارے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami