Share this link via
Personality Websites!
ہم ہیں، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ نے اُس دَور میں جو کچھ کیا، اُس کا سنٹرل آئیڈیا تو ہم اپنا ہی سکتے ہیں نا...!! تو *نکلیے گھروں سے لوگوں کو فجر کے لیے جگائیے! *نکلیے گھروں سے مسجد میں دَرْس کے حلقے لگائیے! امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ مسجدِ نبوی شریف میں عِلْمِ دِین سیکھنے سکھانے کا مستقل حلقہ لگایا کرتے تھے، ہم کیوں نہیں گھر سے نکلتے، کیوں وقت نہیں نکالتے، کیوں مسجد میں دَرْس نہیں دیتے، جہاں دَرْس ہوتا ہے، اس میں شرکت کیوں نہیں کرتے؟ کرنا چاہیے! *نکلیے گھر سے علاقائی دورہ کیا کیجیے!*نکلیے گھر سے ایک دِن راہِ خُدا میں دیجیے!*نکلیے گھر سے قافلوں میں سَفَر کیجیے!*میری یہ مصروفیت ہے، وہ مصروفیت ہے، کام رُک جائیں گے، بچوں کو سکول چھوڑنے کون جائے گا؟ دُکان کون کھولے گا؟ رات کو گھر والے اکیلے ہو جائیں گے، ان کے پاس کون رہے گا؟ یہ اتنے سارے عُذْر ہم کر رہے ہوتے ہیں، ذرا سوچئے! خدانخواستہ...!! ایسا کوئی بہانہ مَعَاذَ اللہ! امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ نے کیا ہوتا تو کیا ہوتا...؟ اللہ پاک مُعَاف فرمائے! یزیدیّت غالِب آجاتی، دِین کی ظاہِری شکل و صُورت میں بگاڑ آ سکتا تھا، امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کا دِل حالانکہ تڑپ رہا تھا، مدینہ چھوڑنا آپ کے لیے انتہائی دُشْوار تھا، اس کے باوُجُود آپ نے یہ سفر اِخْتیار فرمایا، مکّہ مکرمہ تشریف لے گئے، پِھر وہاں سے کربلا کا رُخ فرمایا۔
سوچئے! پُوری طرح سوچئے! کیا ہماری مصروفیات اُن کی خالِص دِینی مصروفیات سے زیادہ اَہَم ہیں...؟ نہیں...!! ہر گز نہیں! تو میرے پیارے اسلامی بھائیو! جذبۂ حُسَینی لے کر اُٹھیے! قافلوں کے مُسَافِر بن کر دُنیا بھر میں حسینیت کا ڈَنْکا بجانے میں مصروف ہو جائیے!
جہاں اگرچہ دِگَرگُوں ہے قُمْ بِاِذْنِ اللہ! وہی زمیں، وہی گردُوں ہے قُمْ بِاِذْنِ اللہ! ([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami