Share this link via
Personality Websites!
ٹوٹ رہی ہو گی...!! مگر آہ...!! انہیں جانا تھا، وعدہ نبھانا اور نانا کا دِین بچانا تھا۔
پائی نہ تیغِ عشق سے ہم نے کہیں پناہ پیشِ حرم میں بھی تَو ہیں قربانیوں میں ہم
پیارے اسلامی بھائیو! اس روایت کی روشنی میں کربلا کا جو بنیادی سبق ہمیں سیکھنے کو مِل رہا ہے، وہ امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کا یہ مبارَک جملہ ہے:
اُرِیْدُ اَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ اَنْہٰی عَنِ الْمُنْکَرِ
ترجمہ: میں نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنےکا اِرادہ رکھتا ہوں۔
یہ کربلا کا بنیادی نَظْرِیَہ ہے، سنٹرل آئیڈیا (Central idea) جسے کہتے ہیں نا، یہ وہ ہے: امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ سَفَر کر رہے ہیں، مقصد کیا ہے؟ نیکی کی دعوت دینا، بُرائی سے منع کرنا۔ ویسے ہم خُود کو حسینی کہتے ہیں، اَلحمدُ للہ! ہم ہیں، اللہ پاک ہمیں حسینیت پر استقامت عطا فرمائے، سُوال یہ ہے کہ کربلا کا یہ سنٹرل آئیڈیا ہم کب اپنا رہے ہیں؟ ہم نیکی کی دعوت کے لیے، اِصْلاحِ اُمّت کے لیے سَفَر کب کریں گے...؟
دیکھیے! میں یا آپ وہ رُتبہ نہیں رکھتے جو امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کو حاصِل تھا *ہمارے لیے طِفْ کے ریگستان میں کربلا نہیں سجائی جائے گی*ہمارے سامنے ہزار وں کا لشکر نہیں کھڑا کیا جائے گا...!! ہم نے اسی معمول کی زِندگی میں رہتے ہوئے کربلا کا سبق اپنانا ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہم اپنے اندر جذبات رکھتے ہیں نا؛ کاش! اس وقت ہم ہوتے، امامِ عالی مقام رَضِیَ اللہ عنہ کے قدموں پر جان قربان کر دیتے...۔ ہم یہ سوچتے ہیں، جذبات رکھتے ہیں، اللہ پاک اِن جذبات کو سلامت رکھے مگر ہم اس وقت نہیں تھے، آج
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami