Share this link via
Personality Websites!
اُرِیْدُ اَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ اَنْہٰی عَنِ الْمُنْکَرِ
ترجمہ: میں نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے کا اِرادہ رکھتا ہوں۔
اس کے بعد آپ نے مزید کچھ باتیں لکھ کر کاغذ بند کیا، اس پر اپنی مہر لگائی اور یہ وصیّت نامہ اپنے بھائی حضرت محمد بن حنفیہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے سپرد کر کے مدینۂ پاک سے روانہ ہو گئے۔ ([1])
دِین کی خاطِر سَفَر کرنا ہی پڑا
پیارے اسلامی بھائیو! اس پُرسوز اور دُکھوں سے بھری ہوئی روایت پر غور فرمائیے! وہ کیسا عجیب، دُکھوں سے بھرپُور، دِل پگھلانے والا، سینہ جلانے والا مَنْظَر ہو گا، جب امامِ عالی مقام، امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ یزید بدبخت کی بے جا سختی کے سبب مدینۂ پاک سے ناچاہتے ہوئے روانہ ہو رہے ہوں گے...!!
آج ہم جیسے نکّمے، محض نام کے عاشق بھی جب مدینۂ پاک سے واپسی کا اِرادہ باندھتے ہیں تو دِل روتا ہے، آنکھیں ٹَپ ٹَپ برسنے لگتی ہیں، واپسی کے لیے قدم اُٹھ نہیں پاتے، دِل پُکار رہا ہوتا ہے:
مَر ہی جاؤں میں اگر اس دَرْ سے جاؤں دو قدم کیا بچے بیمارِ غم قربِ مسیحا چھوڑ کر([2])
بھلا سوچئے! جب امامِ عالی مقام، امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ روضۂ سرکار پر آخری حاضِری دے رہے ہوں گے، اَلْوَداعی سلام کر رہے ہوں گے، تَب آپ کے دِلِ پاک پر کیا قیامت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami